خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 199

۱۹۹ 37 پابندی نماز کے متعلق فرمان (فرمود ۱۳ / جنوری ۱۹۲۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔آج میرا منشا یہ تھا کہ ایک ضروری مسئلہ کے لئے پہلے قادیان کی جماعت کو نصیحت کروں۔پھر دوسری جماعتوں میں اس کے متعلق اعلان کروں۔لیکن آج اتفاقی طور پر کام پیش آگیا۔جس سے جمعہ میں دیر ہو گئی۔اب اگر خطبہ لمبا ہو تو نماز کا وقت گزر جائے گا۔اس لئے میں اپنے ارادہ کو پورا نہیں کر سکتا۔اور اپنے مدعا کو وضاحت سے بیان نہیں کر سکتا۔لیکن پھر بھی مختصراً اس بات کو یہاں بیان کر دینا ضروری ہے کہ لوگ تفصیل سننے سے پہلے تیار ہو جائیں۔میں نے اپنی جلسہ کی تقریر میں کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم سے مؤلفۃ القلوب کا سا معالمہ نہیں کیا جائے گا۔ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے ایک عرصہ گذر گیا ہے۔۳۲ سال حضرت اقدس کے دعوئی مسیحیت پر گذر گئے ہیں۔اور ۴۲ سال مجددیت پر گذر گئے ہیں۔براہین احمدیہ ۱۸۸۰ء میں تیار ہوئی اور مختلف حصص ۸۴ تک میں شائع ہوئے۔اس طرح گویا اصل میں ۴۲ سال بن جاتے ہیں۔مسیحت کے دعوئی کے اٹھارہ سال بعد تک حضرت صاحب ہم میں رہے۔پھر خلافت اول کا زمانہ بھی گذر گیا اور اب خلافت ثانیہ کا عہد گذر رہا ہے۔لیکن اب تک احکام دین کے جاری کرنے میں مؤلفۃ القلوب کا سا سلوک جماعت سے ہوتا رہا ہے کہ کسی کو ابتلاء نہ آجائے یعنی نرمی ہی کی جاتی تھی۔اس طرح جماعت پر ایک بدنما دھبہ لگ جاتا ہے۔میں نے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ شریعت کے ظاہری احکام کی جب ہتک ہو رہی ہو تو ان سے پابندی کرائی جائے کہ ہر ایک کام تدریج چاہتا ہے۔اس لئے تدریجی طور پر اس کی بھی نگرانی کی جائے۔جب میں نے یہ کہا تو بعض احباب نے لکھا کہ ہم سے اگر شریعت کے احکام میں غلطی ہو تو ہم کو اس کی سزا دی جائے اس کو برداشت کرنے کو خوشی سے تیار ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ خواہش ہر ایک مومن کے دل میں ہوگی۔اس لئے ہم یہ اعلان کرتے