خطبات محمود (جلد 7) — Page 197
146 بڑی خطا سے چشم پوشی کی۔پس الحمد للہ رب العالمین سب تعریفیں اس کے لئے ہیں۔کہ اس نے رحمان ہوتے ہوئے میری خطاؤں پر نگاہ نہ ڈالی۔حالانکہ احسان کے بعد جو نافرمانی کی جائے وہ زیادہ سخت سزا کا انسان کو مستحق بنا دیتی ہے۔پھر وہ الرحیم بھی ہے۔ادھر تو اس نے یہ احسان کئے اور • میری نافرمانیوں اور خطاؤں پر نظر نہ کی۔ادھر میری ذرا سے ذرا محنت اور کوشش کو بھی ضائع نہ ہونے دیا۔میں نے چھوٹے سے چھوٹا کام کیا اور اس نے مجھے اس کا بڑے سے بڑا بدلا دیا۔یہ نہ کیا کہ وہ بڑے کو اس لئے روک لیتا کہ میں نے اس کی نافرمانیاں کیں۔جس طرح کسی نے کسی کا پندرہ روپے قرضہ دینا ہو مگر دس اس کی طرف نکلتے ہوں۔تو دس کاٹ کر باقی کے پانچ دے دیتا ہے۔اس نے اپنا لینا تو معاف کر دیا۔اور میرا حق جو اس نے میرا حق اس طرح مقدر کیا ہے کہ یہ ذرا بھی کام کرے گا تو میں بدلا دوں گا وہ مجھے دے دیا۔میری خطاؤں کی وجہ سے اس نے اس کو نہ روکا۔اگر میں نے ہاتھ چلایا۔تو اس نے نئی قوت عطا کی۔اگر میں نے آنکھ کھولی تو اس نے نیا نور عطا کیا۔اگر میں چلا تو اس نے میرے پاؤں کو اور زیادہ مضبوط کر دیا۔اگر میں نے روزہ رکھا۔تو اس نے تقویٰ میں ترقی دی۔غرض ہر عمل جو دنیاوی فعل یا دینی کام میں نے کیا۔اس کا مجھے بدلہ دیتا گیا۔یہ نہ کہا کہ میں نے جو اسے قرض دینا تھا۔اس میں وہ کاٹ لیتا پس الحمد للہ۔بڑا ہی حمد والا خدا ہے۔کہ میں نے سب کچھ کیا۔بڑی بڑی خطائیں کیں۔مگر ان کی طرف اس نے توجہ نہ کی۔پھر وہ مالک یوم الدین تھا۔کوئی کہے۔یہ ٹھیک ہے۔کہ وہ بہت بڑا محسن تھا۔اس کے انسان پر بڑے حق تھے۔مگر چونکہ وہ سزا نہ دے سکتا تھا۔اس لئے اس نے نہیں دی۔مگر ایسا نہیں وہ مالک اور آقا تھا۔جس وقت چاہتا پکڑ لیتا۔کیونکہ اس کا حق بھی تھا۔اور اسے پکڑنے کی طاقت بھی تھی۔بعض اوقات حق تو ہوتا ہے۔مگر چونکہ طاقت نہیں ہوتی۔اس لئے انسان کچھ نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا۔کیونکہ وہ جزا و سزا کے دن کا مالک تھا۔وہ جب چاہتا۔پکڑ سکتا تھا۔مگر اس نے کچھ نہ کیا۔اور سال گذر گیا۔جس میں اس نے اپنی ربوبیت رحمانیت رحیمیت میرے لئے جاری رکھی۔اور مالکیت کا پہلو بھی ساتھ ہی رہا۔پس الحمد للہ کہ میں اسی رستہ پر ایک سال چلا اور خدا کے فضل سے صحیح و سلامت رہا۔جب بندہ اس پچھلی حالت کو دیکھتا ہے تو آئندہ کے لئے اپنا نیا پروگرام بناتا ہے کہ پیچھے تو جو ہو گیا ہو گیا۔اب اس طرح نہ کروں گا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور فرمانبرداری کروں گا۔جب وہ ارادہ کرتا ہے۔تو کہتا ہے۔ایاک نعبد حضور گذشتہ سال کے لئے تو میں شکر گذار ہوں۔کہ اپنی خطاؤں اور کوتاہیوں کے خمیازہ سے بچ گیا۔اب ایسا نہیں ہو گا۔تیرا بڑا تابعدار غلام بنا رہوں گا۔وایاک نستعین اور تجھ سے مدد مانگتا ہوں کہ میرا یہ پروگرام پورا ہو اهدنا