خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 182

1사 اگر تم اس بات کو سمجھ لو۔تو تمہاری موجودہ زندگی خواہ تم کسی پیشہ میں ہو۔ایک لفظ بھی نہ پڑھے ہوئے ہو۔لوہار اور ترکھان کا کام کرتے ہو۔تو بھی ایسی تبدیلی کر سکو گے کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔اور میں جانتا ہوں۔کہ جب کوئی قوم کسی کام کو اپنا مقصد قرار دے لے۔تو اسے کر کے ہی چھوڑتی ہے۔سکھوں کی قوم کو ہی دیکھ لو یہ ایک جاہل قوم تھی۔اس نے جب اپنا ایک مقصد قرار دے لیا۔تو باوجود یکہ ان پر بڑے بڑے ظلم ہوئے۔جیسے کہ پھر انہوں نے کئے۔ان کے گوروؤں کے لڑکے زندہ چن دئے مگر آخر کامیاب ہو گئے۔یہ الگ بات ہے کہ ان سے غلطی ہو گئی۔اور بجائے اس کے کہ وہ مذہب کو اپنا مقصد قرار دیتے۔اور دنیا کو اس کے لئے حاصل کرتے۔انہوں نے یہ کیا کہ سمجھ لیا کہ مذہب کی تب حفاظت ہو سکتی ہے کہ دنیا پر حکومت ہو۔مگر پھر وہ مذہب کو بھول گئے۔اور حکومت ہی حکومت ان کے مد نظر رہ گئی۔تو یہ زمینداریا پیشہ ور لوگ تھے لوہار، ترکھان، جو حکومت کے لئے کھڑے ہو گئے۔ادھر مغلوں کی حکومت تھی۔اور ادھر انگریز۔مگر یہ حاکم بن گئے۔رنجیت سنگھ ایک معمولی زمیندار تھا۔لیکن آخر بادشاہ بن گیا۔وجہ یہ کہ انہوں نے اپنا جو مقصد قرار دے لیا تھا اس کے لئے ہر چیز کو قربان کر دیا۔حتی کہ اصل چیز کو بھی بھول گئے۔اگر وہ اپنا مقصد یہ رکھتے کہ مذہبی آزادی حاصل کرنی ہے۔تو ایسا نہ ہوتا۔جیسا کہ اسلام نے کیا۔اسلام کے مقابلہ میں حکومتیں آئیں کہ اسے پھیلنے نہ دیں گے۔انہیں مسلمانوں کو مٹانا پڑا۔مگر اصل مقصد انہوں نے اپنا مذہب رکھا نہ کہ حکومت کرنا اس لئے وہ مذہب پر قائم رہے۔پس جس قوم کے مد نظر اپنا ایک مقصد ہوتا ہے۔اس میں اور دوسری میں ایسا ہی فرق ہوتا ہے۔جیسا مردہ اور زندہ ہیں۔یہ بات میں پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں کہ جب تک تم میں یہ روح نہ ہوگی۔تم ترقی نہ کر سکو گے۔مذہب کو صرف قبول کر لینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔بلکہ آئندہ زندگی کے لئے بطور مقصد اور مدعا سمجھنے سے فائدہ ہوتا ہے۔کیا ہم یہ نہیں مانتے کہ فلاں فلاں پہاڑ ہے۔یا بٹالہ ایک شہر ہے۔مگر اس سے ہم پر کیا اثر پڑتا ہے۔اگر یہ نہ ہو تو ہمارا کیا حرج ہوتا۔ہاں ہمیں یہ پتہ نہ ہو کہ بٹالہ ایک شہر ہے اور وہاں فلاں چیز ملتی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔تو حرج ہو گا۔اور جب اس کا پتہ لگے گا۔تو ہم اس طرف جائیں گے۔اور یہ ہمارا مقصد ہو جائے گا۔پس مذہب کو صرف مان لینا ہی کافی نہیں اس کو اپنا مقصد قرار دو۔تب تمہیں وہ بات حاصل ہوگی۔جس کے حاصل کرنے کی تمہارے دل میں تڑپ ہے۔مگر تم صحیح ذرائع پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اسے حاصل نہیں کر سکتے۔الفضل ۱۳۱ دسمبر ۱۹۲۱ء)