خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 183

34 احباب قادیان کو ہدایات جلسہ کے لئے (فرموده ۲۳ و کمبر ۱۹۲۱ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔چونکہ نیا آنے والا ہفتہ ہمارے سالانہ اجتماع کا ہفتہ ہے اس لئے میں آج اس اجتماع کے متعلق دوستوں کو کچھ ہدایات دینا چاہتا ہوں۔اول تمام احباب کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایات ہماری زندگی کی درستی اور نفع اور فائدہ کے لئے دی ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔اکرام ضیف آج کل ذلیل بات سمجھی جاتی ہے لیکن یہ ایسے اعلیٰ درجہ کے رکنوں میں سے ہے کہ اس کے پابند کو اللہ تعالی دنیا و آخرت میں ضائع نہیں کرتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی ہوئی تو آپ کو طبعا " گھبراہٹ ہوئی کہ الہام کبھی انعام کے طور پر ہوتا ہے کبھی ابتلاء کے طور پر۔اسلئے آپ نے گھبرا کر اپنی بیوی سے ذکر کیا کہ ایسے نظارے دیکھے ہیں۔اور اس قسم کی آوازیں سنی ہیں۔مجھے ڈر آتا ہے۔حضرت خدیجہ نے کہا کہ میرے نزدیک یہ خیر ہے۔کلا والله لا يخزيك الله ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ تجھے ضائع کرے۔اب سوال ہوتا ہے کہ کیوں نہ کرے۔ان باتوں میں سے ایک بات کے متعلق حضرت خدیجہ فرماتی ہیں۔آپ میں مہمان نوازی اور غرباء کی ہمدردی کی صفت پائی جاتی ہے۔حضرت خدیجہ کی یہ بات کیسی سچی تھی۔دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں آئی۔لیکن ہر حالت میں حضرت خدیجہ کا یہ فقرہ سنہری حرفوں میں آسمانوں پر لکھا ہوا نظر آتا ہے کلا والله لا يخزیک الله رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور آپ کی خوبیاں جتنی انواع و اقسام کی تھیں۔ان