خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 181

IAI کو اپنا مقصد اور مدعا سمجھتے ہیں۔اور دین کو ایک ضمنی بات۔مثلاً ایک زمیندار ہے۔وہ اپنا کام کہی سمجھے گا۔کہ کھاؤں پیوں۔ہاں ساتھ کوئی مذہب بھی اختیار کرلوں۔اس کا مذہب اختیار کرنا ایسا ہی ہو گا۔جیسے کچھری جاتے ہوئے کسی جگہ سے پانی پی لیتا ہے۔یا کوئی میوہ کھا لیتا ہے۔کوئی اس حالت میں اسے دیکھے۔اور کے یہ کچری نہیں جا رہا بلکہ یہی کام کرنے آیا ہے۔تو اس کی غلطی ہوگی۔اور اس کا پتہ بھی لگ جاتا ہے۔جبکہ پانی پینے میں اسے دیر لگ جائے۔اور کچھری سے آواز آئے کہ فتح محمد ہے۔تو وہ پانی چھوڑ دے گا۔اور یہ درمیانی چیز قربان کر کے ادھر بھاگ پڑے گا۔تو بالعموم ایسے لوگ ہوتے ہیں۔جن کا مقصد اور مدعا دنیاوی چیزیں ہوتی ہیں۔اور مذہب کو وہ اسی طرح ایک درمیانی اور ضمنی چیز سمجھتے ہیں۔جس طرح کوئی کچھری جاتے ہوئے پانی پی لیتا ہے۔میوہ کھا لیتا ہے۔یا کوئی چیز خرید لیتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا۔کہ اس کا اصل کام یہی تھا۔بلکہ یہ کہ اسے کچری کے کام سے فرصت مل گئی تو اس نے اس کام کو کر لیا۔ان لوگوں کا مذہب کے متعلق یہی حال ہوتا ہے۔کہ زمینداری سے یا اور دنیاوی کام سے فرصت مل گئی تو ظہر و عصر کی نماز پڑھ لی۔یا نماز پڑھنے سے ان کے کام میں کوئی ہرج نہ ہوا تو پڑھ لی۔لیکن اگر کوئی کام ہو۔اور اس کو چھوڑنا پڑے تو پھر نہیں پڑھیں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصد زمینداری یا اور کوئی دنیاوی کام ہے۔کیونکہ اس پر وہ دین کے کام کو قربان کر دیتا ہے۔ورنہ اگر وہ اپنا مقصد مذہب کو قرار دیتا۔تو اس کے الٹ کرتا۔جب وہ اپنا مقصد مذہب کو سمجھ لے گا۔تو پھر ایسا ہو گا۔کہ جس طرح کچھری کی طرف سے آواز آنے پر مٹھائی خریدنا چھوڑ کر ادھر بھاگ پڑتا ہے۔اسی طرح جب دین کی طرف سے آواز آئے۔تو سب کچھ چھوڑ کر ادھر متوجہ ہو جائے گا۔اور پھر یہ نہیں ہو گا کہ وہ مذہب کو اپنا مقصد بنائے نماز پڑھے۔روزے رکھے۔حج کرے۔زکوۃ دے۔مگر پھر بھی اس کی بیوی اور رشتہ داروں کو پتہ نہ ہو۔کہ اس کا کیا مذہب ہے۔بلکہ وہ زندہ کی طرح ہوگا۔اور کہے گا۔کہ مجھے خطرہ ہے کہ اگر میں نے اپنی بیوی۔اپنے رشتہ داروں اور اپنے قریب رہنے والوں کو دین نہ سکھایا تو میری اولاد پر ڈاکہ ڈالیں گے اور اس کو تباہ کر دیں گے۔اس صورت میں اس کی اور زندگی ہوگی۔یہ زندہ نظر آئے گا۔اور دوسرے اس کے سامنے زندہ مردہ ہونگے اور جس طرح وہ چاہے گا۔ان کو سکھائے گا۔یہ بات ہے جس کی طرف میں نے پہلے بھی آپ لوگوں کو توجہ دلائی ہے۔اور اب بھی دلاتا ہوں کہ اپنی زندگیوں کو زندہ بناؤ۔اور مذہب قبول کر کے دیکھو کہ اسے تم نے اپنا مقصد بنا لیا ہے یا دنیا کی اور چیزیں تمہارا مقصد ہے۔اگر مذہب ہے تو دیکھو تم نے اس کے لئے کیا کیا قربانیاں کی ہیں؟