خطبات محمود (جلد 7) — Page 160
میرے نزدیک یہ سخت کمزوریاں ہیں۔قرب الی اللہ کے لئے ضروری ہے کہ انسان اس مقام پر پہنچ جائے۔جہاں وہ خدا تعالیٰ کی قدرت خاص کا مشاہدہ کر سکے۔جو بھی بات اس کے ماتحت ظاہر ہو۔اس کا انکار نہ کرے۔دیکھو سورج چاند کے مقابلہ میں نہیں چمکتا۔لیکن اگر ایسا موقع آجائے کہ سورج بھی چمک رہا ہو اور چاند بھی۔تو عظمند اس کو کہا جائے گا جو یہ کہے گا کہ میں چاند کو بھی چمکتا دیکھ رہا ہوں اور سورج کو بھی۔مگر میں یہ نہیں بتا سکتا کہ ایسا کیوں ہے۔یہ پہلے تجربہ کے خلاف ہے مگر ہے ٹھیک۔پس میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں۔کہ تمہیں ایسا ایمان حاصل ہو کہ دنیاوی روکیں تمہارے راستہ سے مٹ جائیں۔اور تمہارے ایمان کی بنیاد روئت پر ہو۔تمہارے اندر قرب الی اللہ کی خواہش ہو۔اور تمہارے سب کام اسی خواہش کے نیچے ہوں۔جو نہ تو اسے ہٹا سکیں۔اور نہ اس کے ماتحت کام کرنے سے ہٹا سکیں۔یہ بات اگر تم میں پیدا ہو جائے تو تمہیں وہ درجہ حاصل ہو سکتا ہے جو مشاہدہ کا درجہ ہے۔اور ایسی جماعت کے لئے پھر کوئی گھبراہٹ نہیں ہوگی۔کہ ٹھوکر کھا جائیں گے۔حضرت معین الدین چشتی۔حضرت شہاب الدین سہروردی اور دوسرے بزرگوں نے دین کی بڑی خدمت کی ہے۔ان کے مقابلہ میں امام ابو حنیفہ امام شافعی امام مالک امام حنبل اور ائمہ جو گذرے ہیں۔یہ سب اہل اللہ تھے۔اور ان سب کا روحانیت سے تعلق تھا۔گو انہوں نے علم کی مختلف شاخیں تقسیم کر لی تھیں۔میں چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی ایسے ہی لوگ پیدا ہوں۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اور بات بھی چاہتا ہوں۔اور پچھلوں کی غلطی سے فائدہ اٹھاتا ہوں جو یہ ہے کہ ہماری جماعت میں جنید بغدادی اور ابن عربی و معین الدین چشتی جیسے لوگ تو ہوں۔مگر باتیں اس رنگ میں نہ کریں جس رنگ میں انہوں نے اپنے وقت میں کسی وجہ سے کی تھیں۔کیونکہ ان باتوں سے لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔پس ایسے لوگ ہوں تو سہی اور میں امید رکھتا ہوں کہ ہونگے۔اور اب بھی ایسے ہیں۔جن میں خدا تعالیٰ نے اس مقام پر پہنچنے کا مادہ رکھا ہے۔مگر میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے الفاظ کو ظاہر شریعت کے ماتحت رکھیں۔تاکہ لوگ ٹھوکر نہ کھائیں۔یہ غرض ہے میرے ان خطبوں کی کہ تمہیں قرب الی اللہ کا ایسا درجہ حاصل ہو جائے جس سے دنیا کی کوئی چیز تمہیں ہٹا نہ سکے۔(الفضل ۱۲ دسمبر ۱۹۲۱ء)