خطبات محمود (جلد 7) — Page 161
191 32 انتظام سلسلہ کے لئے ضروری حکمتیں (فرموده ۱۹ دسمبر ۱۹۲۱ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں آج اس سلسلہ مضامین کو جسے پچھلے خطبات میں بیان کرتا رہا ہوں ختم کرنا چاہتا ہوں۔کیونکہ گو اس کے اور بہت سے پہلو ہیں لیکن انسان کی یہ فطرت ہے۔کہ ایک بات جس کو وہ متواتر سنتا رہے اس کا عادی ہو جاتا ہے۔اور اس فطرت انسانی کا لحاظ بندے تو الگ رہے اللہ تعالیٰ کو بھی انسان کی بناوٹ اور خلق کا لحاظ کر کے بندوں سے معاملہ کرتے وقت کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔دوزخ والے جب کچھ مدت عذاب میں رہیں گے۔یعنی اس کے عادی ہو جائیں گے۔تو ہم ان کی جلدوں کو بدل دیں گے۔پس جب معمولی باتیں تو الگ رہیں انسان عذاب کا بھی عادی ہو جاتا ہے۔اور اس کا احساس کم ہو جاتا ہے۔تو کجا یہ کہ وہ عام باتیں جن کے اندر احساسات اور جذبات کو اس قدر ابھارنے کی طاقت نہیں ہوتی۔جس قدر حد درجہ کے عذاب یا خوشی میں ہوتی ہے۔ان کو مسلسل بہت عرصہ تک بیان کیا جائے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس سلسلہ کو ختم کردوں۔اور اس کے ختم کرنے پر بعض علمتیں جن کے ماتحت کسی جماعت اور سلسلہ کا انتظام چلایا جاتا ہے۔اور بہت حد تک ان کی ناواقفیت کی وجہ سے لوگوں کو دھو کہ لگتا ہے۔ان کو بیان کردوں۔کوئی تقسیم کرنے والا اعتراضوں سے نہیں بچ سکتا بہت حد تک دھوکہ کی وجہ تقسیم ہوتی ہے۔خواہ تقسیم عمل ہو۔یا تقسیم مال۔یا تقسیم مدارج یہی باتیں اصل باعث فتنوں کا ہوتی ہے۔بعض انسان اس بات کو سمجھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔کہ تقسیم عمل اور تقسیم مال اور تقسیم مدارج کن حکمتوں پر مبنی ہوتی ہے۔اور اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے اور سمجھتے ہیں فلاں بات میں بے انصافی کی گئی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ دنیا میں بے انصافی ہوتی ہے۔اور لوگ دوسروں کے حق مار لیتے ہیں۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ کوئی انتہائی دیانت داری سے بھی کام لے۔تو بھی سارے لوگ اس سے خوش ہو سکیں۔ممکن