خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 159

109 میں اس روح کو لفظوں میں تمہارے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔مگر جب پکڑنے اور بیان کرنے لگتا ہوں۔تو رہ جاتا ہوں۔اور بیان نہیں کر سکتا۔یہ روح ذہنی طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور جب پیدا ہو جائے تب ہی اس کی حقیقت معلوم ہو سکتی ہے۔لفظوں میں اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔جس طرح میٹھی میٹھی درد ہوتی ہے اور ہاتھ لگانے سے معلوم نہیں ہو سکتا کہ کہاں ہوتی ہے۔اسی طرح اس روح کا بھی پتہ نہیں لگایا جا سکتا۔میں چاہتا ہوں۔کہ اسے پکڑ کر تمہارے سامنے رکھ دوں۔اور تم اس کو معلوم کر کے اسے اپنے اندر پیدا کر لو۔مگر کیا کروں وہ پکڑی نہیں جاتی۔میں نے اس بات پر بڑا غور۔فکر اور تدبر کیا ہے کہ اس روح کی حقیقت بتا اور سمجھا سکوں۔مگر مجھے اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔اس لئے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ ایسی چیز ہے کہ کوئی انسان کسی کو نہیں دے سکتا۔صرف خدا ہی دے سکتا ہے اور خدا ہی انسان کے اندر یہ بات پیدا کر سکتا ہے۔جس طرح بینائی کوئی انسان کسی کو نہیں دے سکتا۔ہاں اشاروں سے ایک اندھے کو سمجھا سکتا ہے کہ بینائی ایسی چیز ہوتی ہے، جس کے ذریعہ بغیر آواز کے انسان دوسرے کو پہچان لیتا ہے۔اب اگر اسے یک لخت یہ بات حاصل ہو جائے تو وہ سمجھ لے گا۔کہ مجھے بینائی مل گئی ہے۔اسی طرح اس کے متعلق بھی میں صرف اشارے ہی کر سکتا ہوں۔اصل حقیقت نہیں بتا سکتا۔کیونکہ یہ بات قلب سے تعلق رکھتی ہے۔میں یہ جانتا ہوں کہ تم میں سے ایسے لوگ ہونگے جن پر دین کی بنیاد رکھی جائے گی۔مگر میں یہ بھی کہنے سے نہیں رک سکتا۔کہ میں دیکھتا ہوں تمہارے عالموں میں نئے علوم سے تعصب اور انگریزی خوانوں میں نیچریت کا مادہ پایا جاتا ہے۔جب تک ظاہری علوم پڑھنے والے قدرت خاص اور قدرت عام کا اعتراف نہ کریں اور دل سے اعتراف نہ کریں۔اس وقت تک دین نہیں آسکتا۔اگرچہ ابھی تک واسطہ نہیں پڑا۔لیکن اگر کبھی پڑے تو ہمارے ایسے مولوی ہیں۔کہ جب کوئی نیا علم ان کے سامنے آئے۔تو وہ اس کا انکار کر دیں۔(یہ نہیں کہ خدا کے دین کے ماتحت اس کو لے آئیں، جیسا کہ پادریوں نے کیا۔جب سچی باتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اٹھے۔اور اس طرح لوگوں کے دلوں سے ان کی وقعت اٹھ گئی۔تو پھر وہی باتیں بھی ان کے مقابلہ میں پیش کر کے لوگوں سے منوالی گئیں۔اسی طرح اگر کوئی موقع آجائے۔تو یہ علماء انکار کر دیں گے۔اور ان کے مقابلہ میں ایسے بھی ہیں جو معجزات کا انکار کر دیں گے۔اور اگر انکار نہ کریں گے۔تو ایسے معجزے جیسے چھینٹے پڑنے کا ہے۔پیش کرتے ہوئے جھجکیں گے۔اور اگر پیش کر دیں گے تو ان کے دل میں یہ خواہش نہ پیدا ہوگی کہ ہم پر بھی چھینٹے پڑیں۔اور یہ مخفی علامت ہے نیچریت کی۔ورنہ وہ کیوں خواہش نہ کریں۔کہ ہمارے لئے بھی خدا تعالیٰ قدرت خاص جاری کرے۔