خطبات محمود (جلد 7) — Page 118
کے نزدیک ایک بات غلط ہے تو وہ دیانتداری سے کہدے کہ میں اس کو غلط سمجھتا ہوں۔یہ بات جدا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو زیادہ دانا سمجھ کر اس کے پیچھے چل پڑے اور کہے کہ گو میں اس بات کو نہیں سمجھا مگر چونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ دانا شخص ہے اس لئے میں اپنی رائے کو اس شخص کی رائے پر قربان کرتا ہوں لیکن اگر کوئی شخص ایک بات کو غلط سمجھ کر اور اس کی غلطی پر مصر ہونے کے باوجود پھر ظاہر میں تو اس کے مطابق کام کرتا ہے۔مگر باطن میں اس کا مخالف رہتا ہے اور موقع کا متلاشی رہتا ہے تو اس کا یہ فعل نا واجب اور دیانت کے خلاف ہے۔جب تک تم میں یہ بات پیدا نہ ہو کہ تم خواہ سیاسی معاملات ہوں یا دینی یا تمدنی یا کوئی اور ان میں دیانت کے پہلو کو مد نظر رکھو۔تم مستحق عزت نہیں ہوگے۔نہ انسانوں کی نظر میں نہ خدا کی نظر میں۔دیانت تو دیانت اگر دیانت کی شکل بھی اختیار کی جائے تو انسان کی ایک عزت قائم ہو جاتی ہے۔مثلاً مسٹر گاندھی ہیں۔میرے نزدیک اس وقت ان کے سب کے سب افعال دیانت دارانہ نہیں۔پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ ان کا ہر ایک فعل دیانت داری سے ہے مگر اب اس قسم کے واقعات پیدا ہوئے ہیں۔جن کے باعث میں نے اپنے رائے کو بدل لیا ہے۔اور میں کہتا ہوں کہ مسٹر گاندھی کے رویہ میں صاف ہندو مسلم سوال کام کر رہا ہے۔اور وہ در حقیقت ہندوؤں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔مسلمانوں سے ان کو کوئی سچی ہمدردی نہیں۔چنانچہ ابھی جو سول نافرمانی کا ریزولیوشن پاس ہوا ہے۔اس میں شرائط اس قسم کے رکھے گئے ہیں جن کی وجہ سے بالعموم مسلمان ہی اس فیصلہ پر اول کاربند ہونے والوں میں سے ہوں گے۔اور اس کا برا نتیجہ بھی زیادہ تر انہی کو بھگتنا پڑے گا۔ایک شرط یہ ہے کہ جو لوگ سول نافرمانی کرنے کے لئے آمادہ ہوں۔چھوت چھات ترک کر دیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوؤں نے تو جیسا کہ ہزاروں سال سے تجربہ ہو چکا ہے اس امر کو چھوڑنا نہیں اور اس طرح اس کام کے وہ مجاز بھی نہ ہوں گے پس مسلمانوں پر ہی بالعموم (مستثنیات کو علیحدہ کر کے) اس کا بار پڑے گا۔اس کا نتیجہ کیا ہو گا یہ کہ سب سے پہلے جو قوم توپ کے منہ کے آگے رکھی جائے گی وہ مسلمان قوم ہوگی۔اسی طرح محمد علی شوکت علی صاحبان کے معاملہ میں ان کی قید کے بعد جو رویہ مسٹر گاندھی نے اختیار کیا ہے وہ ان کی بہت بڑی ہمدردی کا پتہ نہیں دیتا۔ان تمام باتوں کے باوجود مسٹر گاندھی کے اعمال کی ظاہری شکل دیانت دارانہ ہے۔اس لئے گورنمنٹ بھی یہی سمجھتی ہے اور انگریزی اخبار بھی۔گورنمنٹ اور انگریزی اخبار محمد علی شوکت علی کے ہر فعل کو شرارت سمجھتے ہیں۔اور مسٹر گاندھی کو دھوکہ خوردہ۔اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر انسان کے اکثر اعمال دیانت داری پر مبنی ہوں اور وہ اپنی وضع دیانتدارانہ رکھے تو بھی وہ عزت حاصل کر لیتا ہے۔اس نصیحت کے بعد ایک امر کے متعلق خاص نصیحت کرتا ہوں۔