خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 117

114 بھیجا کہ کہدو کہ میں تو آپ سے واقف نہیں۔دوسرے کے ہاں گیا۔اس نے بھی اندر سے کہلا بھیجا کہ وہ گھر نہیں۔اسی طرح سب امیر دوستوں میں سے کسی نے کوئی عذر کیا کسی نے کوئی۔اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ ان امیر دوستوں کو دیکھ لیا۔اب اس غریب کے پاس چل کر دیکھ۔بیوی نے کہا کہ جب امیروں کی یہ حالت ہے تو اس غریب کی ان سے بدتر ہو گی۔خاوند نے کہا کہ چلو تو سہی۔آخر اس غریب کے گھر پہنچے۔دروازے پر دستک دی وہ اندر سے آیا۔کواڑ کھولتے ہی جب اس نے میاں بیوی کو اس حال میں کھڑے دیکھا تو فوراً اندر واپس چلا گیا۔بیوی نے کہا لو اس شخص کو بھی دیکھ لیا یہ بھی ویسا ہی ہے۔امیر نے جوابد یا ابھی صبر کرو۔دیکھو ہوتا کیا ہے۔اگر یہ بھی ویسا ہی نکلا تو ہمارا کوئی حرج نہیں۔اور اگر ان کے خلاف ہوا تو ظاہر ہو جائے گا۔تھوڑی دیر میں وہ شخص گھر سے نکلا۔وردی اس نے پہنی ہوئی تھی۔ایک ہاتھ میں تلوار تھی اور دوسرے میں ایک تھیلی رویوں سے پر تھی امیر کے سامنے آیا اور کہا کہ اگر تمہیں مالی نقصان پہنچا ہے تو یہ میری ساری عمر کا اندوختہ ہے اس کو اپنا سمجھو اور اگر کسی شخص نے تم پر ظلم کیا ہے اور اس طرح تمہارے مال کو نقصان پہنچایا ہے تو یہ میری تلوار ہے میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔اور اس ظلم کا بدلہ لیتا ہوں اس وقت اس امیر نے اپنی بیوی کو کہا کہ دیکھ یہ باعث ہے میرے اس شخص کو زیادہ عزیز رکھنے کا۔کیا اس غریب کی محبت اور اخلاص عزت بڑھانے والا تھا یا گھٹانے والا تو بچے دوست کی عزت دل سے ہوتی ہے۔جو شخص بناوٹ سے عزت کرتا ہے۔وہ عزت حقیقی نہیں ہوتی۔جو عزت ایک دیانتدار غریب شخص کی ہوتی ہے۔وہ ایک بددیانت امیر کی نہیں ہوتی۔دیانت دار شخص کی عزت تو دشمن بھی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔دیکھو حضرت صاحب کے مخالف بھی آپ کی عزت کرتے تھے اور آپ پر بھروسہ کرتے تھے۔جائداد کے مقدمات میں مخالفوں نے آپ کے فیصلہ کو تسلیم کیا۔اور رشتہ دار آمادہ اس لئے نہ ہوتے تھے کہ آپ سچ کہیں گے اور جائداد جاتی رہی گی۔چنانچہ دعوی سے قبل اسی قسم کے فیصلے جب مخالفوں نے آپ پر منحصر کئے تو۔آپ نے صاف صاف بات کہہ دی۔اور اس طرح جائداد مقبوضہ کا ایک حصہ آپ کے خاندان کے ہاتھ سے نکل گیا۔تو میں نے بتایا ہے کہ دیانتدار شخص کی عزت اس کا دشمن بھی کرتا ہے۔اگر کوئی حقیقی عزت کا طالب ہے تو اس کو چاہیے کہ دیانت کو اختیار کرے۔یہی نکتہ ہے جس پر میری تمام سیاسی تجاویز کی بنیاد ہوتی ہے۔میں لوگوں کو کہتا ہوں کہ گورنمنٹ سے دیانت سے معاملہ کرو۔اگر گورنمنٹ واقعی ایسی بری ہو تو دیانتداری سے اس کو بتا دینا چاہئیے۔مگر میری یہ نصیحت سیاست تک ہی محدود نہیں۔بلکہ ہر ایک شخص کو یہی کہتا ہوں اور اپنی جماعت کے لوگوں کو بھی یہی کہتا ہوں کہ وہ دیانتداری سے اعمال بجالائیں۔وہ دیکھیں کہ ان کے اعمال میں دیانت کہاں تک ہے۔اگر ایک