خطبات محمود (جلد 7) — Page 119
119 جس طرح رعایا کا گورنمنٹ سے ایک معاہدہ ہوتا ہے۔اسی رنگ میں مذہبی سلسلوں میں بھی ہے جو لوگ ایک ملک میں رہتے ہیں۔وہاں کی قائم شدہ گورنمنٹ سے انکا ایک معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ اس معاہدہ پر دستخط بھی ہوں۔بلکہ ہر ایک عقل مند اپنے آپ کو کو ایک معاہدہ کا پابند خیال کرتا ہے۔اسی طرح جو لوگ مذہبی سلسلوں کو قبول کرتے ہیں۔ان کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ یہ اس سلسلہ کے احکام کے پابند اور اس انتظام کے ماتحت ہیں۔جو سلسلہ کے منتظموں یا منتظم نے قائم کیا ہے۔جس طرح دنیاوی گور نمنٹوں کے ماتحت رہنے والوں کے متعلق سمجھا جاتا ہے۔کہ یہ اس کے احکام کے پابند رہیں گے۔اسی طرح مذہبی سلسلوں میں داخل ہونے والوں کے متعلق بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ پابندی کریں گے۔اگر کوئی شخص اس انتظام کی پابندی نہ کر سکتا ہو تو دیانت داری چاہتی ہے کہ وہ کہہ دے کہ میں پابندی نہیں کر سکتا۔اور اگر کر سکتا ہے تو کرے۔اب میں بتاتا ہوں کہ ہمارا بھی ایک روحانی سلسلہ اور ایک انتظام ہے۔جس کی غرض یہ ہے کہ اسلام کی ترقی اور اشاعت ہو۔اور ہماری آئندہ نسلوں میں دین کی محبت اور دین کا جوش اور دین کے لئے خلوص پیدا ہو۔اور تمام ارواح خدا تعالیٰ کے مقدس دین کے جھنڈے کے نیچے آجائیں۔اور دشمنوں کو بھی آمادہ کریں۔کہ وہ اس حق کو قبول کریں۔اور اسلام کی منتشر طاقتوں کو ایک اتحاد کی رسی کے اندر باندھ دیں۔یہ غرض ہے جس کے لئے یہ سلسلہ قائم کیا گیا ہے۔جو شخص اس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے۔اس کا ایک معاہدہ ہو جاتا ہے۔کہ وہ ان شرائط کا پابند رہے گا۔جو اس انتظام کے ذمہ دار قائم کریں۔جس طرح دنیاوی بادشاہ اور رعایا کا تعلق ہوتا ہے۔اسی طرح منتظموں کے خیالات کی پابندی سلکین سلسلہ کے لئے لازم ہے۔اگر ان کو وہ طریق جو منتظمین پیش کرتے ہیں۔ناپسند ہو اور وہ اس کے مخالف ہوں اور دل میں اس کی خرابی کو محسوس کرتے ہوں۔تو دیانت کے خلاف ہو گا کہ یہ ظاہری طور پر اس کی پابندی کریں اور دل سے اس کی تباہی کے منصوبے سوچیں یا ایسا رویہ اختیار کریں جس سے وہ کام خراب ہو جائے۔اب میں بتاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے جو ہم چاہتے ہیں۔مجھ سے پہلے جو تھے۔ان کے کیا خیالات تھے میں اس بارے میں بحث نہ کروں گا۔اور جو آئندہ ہوں گے نہ ان کے بارے میں۔بلکہ میں کھول کر بتاتا ہوں کہ میں کیا چاہتا ہوں۔تاکہ جو ہم سے ملکر کام نہ کر سکیں وہ صاف کہہ دیں کہ ہم متفق نہیں۔اور اگر وہ متفق ہوں تو بھی بتا دیں اگر وہ نہ کر سکیں گے تو وہ کہدیں اور دیانت داری چاہتی ہے کہ کہدیں کہ ہم مل کر کام نہیں کر سکتے۔اس وقت ہم کہہ دیں گے هذا فراق بینی وبينكم (الكمت (۷۹) تمہارا راستہ وہ ہے اور ہمارا یہ ہے۔