خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 329

27 پس دنیاوی افسر جس کا ماتحت اس کا غلام نہیں ہوتا دونوں انسان ہیں اور ممکن ہے ماتحت کی عقل اور تجربہ افسر سے زیادہ ہو۔اور بعض دفعہ کو افسر عالم اور تجربہ کار زیادہ ہو۔ماتحت کو بھی عمدہ اور درست بات سمجھ میں آجاتی ہے لیکن انتظام کے قیام کے لئے یہی بات رکھی گئی ہے کہ افسر حکم دے تو ماتحت اس کی اطاعت کرے۔افسر اور بزرگ دانا اور عالم بھی ہوتے ہیں۔مگر بعض اوقات ایک بات بچہ کے ذہن میں آجاتی ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اور وعظ فرماتے تھے مگر لوگ نہیں سنتے تھے۔آخر آپ نے ان کی دعوت کر کے تبلیغ کرنے کی تجویز کی۔چنانچہ دعوت میں وہ لوگ آئے لیکن جب کھانے کے بعد آپ وعظ فرمانے لگے تو وہ فورا" چلے گئے۔آپ حیران ہوئے کہ اب کیا تجویز کی جائے۔حضرت علی نے جو اس وقت چھوٹے تھے اور جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس سے مشورہ کر کے قحط کے زمانہ میں بوجہ ابو طالب کا کتبہ زیادہ ہونے کے اپنے گھر لے آئے تھے کہا کہ ایک بات میرے ذہن میں آئی ہے کہ لوگوں کو جمع کرکے پہلے وعظ کیا جائے اور پھر ان کو کھانا کھلایا جائے۔تب سن لیں گے۔اسی طرح کیا گیا تو بعض اوقات ایک بچہ کو بھی افسر اور بزرگ سے زیادہ اچھی بات سوجھ جاتی ہے۔لیکن انتظام چاہتا ہے کہ افسر حکم دے تو مان لو۔مگر خدا تعالی کا کس قدر احسان ہے کہ گو اس سے افسری ماتحتی کا تعلق نہیں مگر حکم دیتا ہے اور ساتھ وجہ بھی بتا دیتا ہے کہ تمہیں جو حکم دیا جاتا ہے اس پر کاربند ہونے میں یہ فائدہ ہے اور جس سے روکا جاتا ہے اس سے رکنے میں یہ نفع۔فرمایا يا أيها الذين امنوا اذا لقيتم فئة فاثبتوا واذكر وا الله كثيرا" لعلكم تفلحون اے مومنو جب تم ایک ایسی جماعت سے ملو۔جس کے افراد ایک دوسرے کی مدد کرنے والے ہوں تو ثبات اختیار کرو۔”فقہ ایسی جماعت جس کے افراد ایک مقصد پر مجتمع ہوں وہ وحشیوں کی جماعت نہ ہو بلکہ اس نے یہ فیصلہ کیا ہو کہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔اگر زید پر کوئی حملہ کرے تو بکر اس کی مدد کرے گا۔انہوں نے جتھا بنایا ہوا ہو۔اس وقت ان کے افراد کی یہ مثال سمجھو جیسے اگر ایک سپاہی پر حملہ کیا جائے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ 999 سپاہیوں پر حملہ کر دیا۔کیونکہ وہ اکیلا نہ تھا۔بلکہ اس کے ساتھ 999 سپاہی اور تھے۔پس فٹنہ کے معنے انبوہ کے نہیں بلکہ ایک ایسی جماعت کے ہیں جس کے افراد ایک دوسرے کے معین اور مدد گار ہوں۔ایسے موقع پر سستی نہیں چاہئے۔بلکہ حکم ہے فاثبتوا اپنی جگہ پر گڑ جاؤ۔ثبات اختیار کرو اور عزم کر لو کہ اس جگہ سے نہیں ہیں گے مگر یہ پہلی چیز ہی کافی نہیں۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جن سے مقابلہ ہو وہ طاقت ور ہوں اور پھر دشمن کی حالت یہ ہے کہ اگر ان کے ایک شخص کا مقابلہ کرے تو وہ سب