خطبات محمود (جلد 7) — Page 330
۳۳۰ کے سب اس کی مدد کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے بھڑوں یا شہد کی مکھیوں کو چھیڑ دیا جائے۔اسی طرح جب دشمن قوی اور کثیر ہوں تو جہاں پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کے مقابلہ میں ثبات اختیار کیا جائے تو دوسری یہ بات ضروری ہے نا ذكروا الله كثيرا یہاں کیا لطیف بات بتائی ہے۔انسان کا قاعدہ ہوتا ہے کہ جب اکیلا ہو اور دشمن زیادہ ہوں تو اپنے ساتھیوں کو کسی ذریعہ سے کہلا کر بھیجتا ہے کہ تمہارا ساتھی مارا جا رہا ہے اس کی مدد کرو۔کسی گاؤں میں کوئی اکیلا شخص جائے اور وہاں اس کو لوگ مارنے لگیں تو کسی راہرو کو کہتا ہے کہ فلاں جگہ پیغام دے دینا کہ تمہارا ساتھی مارا جا رہا ہے اس کی مدد کو پہنچو۔تو ایسی حالت میں انسان اپنی قوم کو بلاتا ہے لیکن مومنوں کا مدد گار کوئی نہیں۔بجز خدا کے اس لئے وہ اسی کو بلاتا ہے اس لئے یہ تعلیم دی کہ پہلی بات تم خود کرو۔وہ یہ کہ ثبات اختیار کرو اور پھر خدا تعالیٰ کے حضور دعا کے پیغام بھیجو۔اس وقت نتیجہ کیا ہو گا۔لعلكم تفلحون تب بے شک تم فتح مند اور مفلح ہو سکتے ہو۔لیکن اگر تم ثبات اختیار نہ کرو اور مقابلہ میں کھڑے نہ رہو تو تمہارا مددگار تمہاری مدد کس طرح کر سکتا ہے۔اسی لئے فرمایا کہ پہلے تم ثبات اختیار کرو اور دشمن کے مقابلہ سے ہٹو نہیں۔اور پھر ہمارے حضور دعا کے ہر کارے بھیج دو۔جب تمہاری مدد پر خدا آگیا تو پھر تمہاری فتح میں کسے شک ہو سکتا ہے اور جس کی مدد کے لئے خدا آجائے اس کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔دنیا بے شک مقابلہ کرے گی اور نسلاً بعد نسل لڑتی جائیگی مگر کب تک لڑے گی۔آخر شکست پائینگی۔پھر فرمایا واطيعوا الله ورسوله ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهب ريحكم واصبروا ان الله مع الصابرين فرماتا ہے۔دنیا ایسے موقع جنگ پر کیا کرتی ہے وہ یہ کہ قاعدہ ہے کہ ایک افسر بناتے ہیں اور اسکے کام کی پیروی کرتے ہیں۔کیونکہ کوئی فوج بغیر افسر کے جنگ میں کام نہیں کر سکتی۔تمہاری بھی ایک جنگ ہے۔جو روحانی جنگ ہے یا ظاہر میں دین کی حفاظت کے لئے جنگ ہے۔اس وقت تمہارے لئے حکم ہے۔اطیعوا اللہ و رسولہ اللہ کی اطاعت کرو۔اپنا کمانڈر اللہ اور اس کے رسول کو سمجھو۔ان کی بتائی ہوئی ترکیبوں پر عمل کرو اور اپنی ہر ایک حالت پر ان کو حاکم بناؤ۔دوسرے ولا تنازعوا آپس میں مت لڑو کہ یہ میری رائے ہے اور ان کی یہ رائے ہے۔یاد رکھو خدا علیم ہے اور رسول اسی سے سیکھ کر کہتا ہے۔اس لئے ان کے احکام کے آگے چوں و چرا کرنا غلطی ہے۔اور پھر آپس میں نہ لڑو جبکہ دشمن کا مقابلہ در پیش ہے اور تم دشمن سے مقابلہ نہیں کر سکو گے۔لیکن مومن کے لئے ایسا موقع کوئی نہیں جب اس کے دشمن نہ رہیں کیونکہ تبلیغ کے راستہ میں جو روکیں ہوں۔ان کو دور کرنا۔وہ نہ ہوں تو شیطان سے جنگ نفس کی اصلاح