خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 328

۳۲۸ 60 ثبات و ذکر الہی ذریعہ فلاح ہیں (فرموده ۲۱ ۱ جولائی ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ اور آیات یا ایها الذين امنوا اذا لقيتم فئة فاثبتوا واذكروا الله كثيرا لعلكم تفلحون واطيعوا الله و رسوله ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهب ريحكم واصبروا ان الله مع الصابرين (الانفال ۴۷۴۶) کی تلاوت کے بعد فرمایا۔قرآن کریم جو احکام اپنے پیروؤں کو دیتا ہے ان کے ساتھ وجوہ بھی بیان کرتا ہے کہ یہ کام کیوں کیا جائے یا کیوں نہ کیا جائے۔میں نے جو یہ دو آیتیں پڑھی ہیں۔ان کے اندر بھی اللہ تعالیٰ نے ایک حکم بیان کیا ہے۔جس کی پابندی کے بغیر نہ کوئی قوم زندہ رہ سکتی ہے نہ زندہ کہلا سکتی ہے۔اور نہ دینی لحاظ سے نہ دنیاوی لحاظ سے ترقی ہی کر سکتی ہے۔اللہ تعالی مختار ہے اور بادشاہ ہے وہ اگر کوئی حکم دے اور اس حکم کی غرض نہ بتائے۔تو بندے کا حق نہیں کہ وہ وجہ پوچھے کیونکہ آقا کے مقابلہ میں ماتحت کا حق نہیں ہو تا کہ وہ آقا کے احکام کی وجہ دریافت کرے۔فوجوں میں یہ عام قاعدہ ہوتا ہے کہ افسر جو حکم دے ماتحت اس کے متعلق سوال نہیں کر سکتا۔جو بڑے افسر ہوتے ہیں وہ ماتحت کی رائے لے سکتے ہیں لیکن اگر نہ لیں تو ماتحت ان سے پوچھ نہیں سکتا۔انگریزوں کا مشہور واقعہ ہے جس پر نظمیں بھی لکھی گئی ہیں روس سے ترکوں کی جنگ ہوئی۔انگریزی فوج روس کے مقابلہ میں ترکوں کی طرف سے لڑی تھی ایک موقع پر خبر ملی کہ روس کی ایک فوج آرہی ہے جس کے متعلق بڑے انگریزی افسر نے اندازہ کیا کہ روس کی جس بڑی فوج نے آتا ہے وہ نہیں ہے۔بلکہ تھوڑی سی فوج ہے اس کے لئے ایک ماتحت افسر کو مقرر کیا۔اور تھوڑے سے سپاہی ان کے مقابلہ کے لئے اس کے ماتحت کئے۔یہ افسر دانا اور واقف تھا۔اس نے کہا کہ یہی روس کی آنے والی فوج ہے یہ چند سو سپاہی ان کا مقابلہ کیسے کریں گے بڑے افسر نے کہا نہیں وہ تھوڑے سے ہیں اور تم جاؤ۔ماتحت افسر اپنے چند سو سپاہیوں کو لے کر چلا گیا اور روسی تو پخانہ نے ان کو اڑا دیا اور صرف چند آدمی اس میں سے بچ سکے۔