خطبات محمود (جلد 7) — Page 324
مهم سلام اس کا خلیفہ نہیں سنے گا تو اس کا کچھ حرج نہیں۔کیونکہ جس کے ساتھ معالمہ ہے۔وہ دل کی حالت کو جانتا اور ہر ایک کی آواز کو سن لیتا ہے اگر دین ہے تو یہی طریق اختیار کرنا چاہیئے۔اور اگر دین نہیں اور دنیا ہے تو پھر کچھ کہنا ہی نہیں۔رسول سے اگر تعلق ہے تو اس لئے کہ خدا کا حکم ہے اور خدا ہی کے لئے تعلق ہے۔مومن اگر اطاعت کرتا ہے اللہ کے لئے کرتا ہے۔ورنہ بندے کا بندے سے کیا تعلق۔دوسری بات یہ فرمائی يا ايها الذين امنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي ولا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض ان تحبط اعمالكم وانتم لا تشعرون اگر رسول بیٹھا ہے۔اور کوئی بات بیان کرے تو اس کے سامنے ادب سے بات کی جائے اور اونچی آواز میں بات نہ کی جائے۔عموماً یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص بات کرے اور اس پر اعتراض ہو کہ اپنی بات کو واضح کیجئے تو جواب میں وہ شخص اپنی بات کو واضح کرنے اور کلام پر زور دینے کے لئے زور سے بولتا ہے۔اور یہ صورت ایک مباحثہ کی ہو جاتی ہے۔اس کے متعلق سکھلایا کہ اگر رسول تمہاری بات واضح کرنے کے لئے سوال کرے تو بلند آواز سے نہ بولو۔آپ کی آواز سے تمہاری آواز نیچی رہے۔زور اس لئے دیا جاتا ہے کہ بات مانی جائے۔یہ طریق درست نہیں رسول اور اس کا نائب مشورہ کو مانتے بھی ہیں۔مجھے تو اس سات سال کے عرصہ میں یاد نہیں کہ احباب نے مشورہ دیا ہو اور میں نے اس مشورہ کو رد کر دیا ہو گو ہمیں حق ہے کہ ہم رد کر دیں۔تم اپنی تحکم کی صورت اختیار نہ کرو۔جس سے ظاہر ہو کہ تم حاکم اور وہ محکوم ہیں۔بلکہ اپنی آواز ان کی آواز سے تو بہر حال اونچی نہیں ہونی چاہیئے اگر رسول یا اس کا نائب بات کرنے میں بلند آواز استعمال کریں تب بھی تمہیں آواز نیچی ہی رکھنی چاہئیے۔حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ بعض اوقات بات کرتے ہوئے اس قدر بلند آواز سے بولتے تھے کہ مدرسہ (احمدیہ) کے صحن میں آپ کی آواز سنائی دیا کرتی تھی۔پس اس حالت میں بھی تمہاری آواز نیچی ہی رہے۔اگر ایسا نہیں کرو گے تو ان تحبط اعمالكم وانتم لا تشعرون ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں۔اور تم کو پتہ بھی نہ لگے۔کتنی چھوٹی بات ہے مگر نتیجہ کتنا خطرناک ہے۔بات یہ ہے کہ جب انسان کسی کے مقابلہ میں بلند آواز سے بولتا ہے تو اس کا ادب دل سے نکل جاتا ہے۔اور جب ادب نہ ہو تو محبت بھی کم ہو جاتی ہے اور محبت کے کم ہونے کے ساتھ ایمان بھی کم ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایمان نہ تھے۔مگر ایمان کو آپ سے وابستہ کر دیا گیا تھا۔آپ سے اگر تعلق کم ہو گا تو اسی قدر ایمان میں کمی آئے گی۔اور جس قدر آپ سے محبت