خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 325

۳۲۵ بڑھے گی اسی قدر ایمان میں مضبوطی اور ترقی ہوگی۔یہی خدا کے پیاروں اور ان کے غیروں میں فرق ہے۔خدا کے پیاروں سے محبت میں جس قدر کمی ہوگی۔اتنا ہی ایمان کم ہو گا۔اور جس قدر ان سے تعلق محبت بڑھے گا۔اسی قدر ایمان بڑھے گا خدا کے پیاروں سے تعلق توڑنے والے خواہ کتنی ہی نمازیں پڑھیں۔روزے رکھیں۔اور زکوۃ دیں مگر نتیجہ ان کے ایمان کا یہی ہوگا۔فرمایا که ان الذين يغضون اصواتهم عند رسول الله اولئك الذين امتحن الله قلوبهم للتقوى وہ لوگ جو رسول کے سامنے اپنی آواز کو دباتے اور نیچی کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے خالص کر لیا ہے ان کے لئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے۔پھر ایک اور ادب سکھلایا ہے ان الذین بنا دونک من وراء الحجرات اكثرهم لا يعقلون بعض لوگ آتے ہیں آواز دیتے ہیں یا دروازے پر زور سے دستک دیتے ہیں۔ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔کیوں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جو شخص اندر بیٹھا بھی خدمت دین میں مصروف ہے اور باہر بھی دین کی بہتری ہی کی فکر میں ہے۔وہ جب باہر نکلے گا تو اس وقت مل لیں گے۔اس کے کام میں خلل انداز ہونا درست نہیں اگر یہ صبر کرتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔یہ چند آداب ہیں جن کا ہمارے دوستوں کو بھی خیال رکھنا چاہئیے۔یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ بعض احکام خاص ہوتے ہیں۔مگر ان سے مراد عام ہوتی ہے۔بعض میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں مگر ان میں آپ کے نائب بھی شامل ہوتے ہیں۔اور بعض عام لوگوں کے لئے بھی ہوتے ہیں۔اگر ان کو خاص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا جائے تو اس سے ہماری شریعت نا مکمل ہو جاتی ہے اس لئے لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبي جہاں رسول اور اس کے جانشین کے لئے ہے وہاں مجلس کے صدر کے لئے بھی ہے۔حضرت صاحب کی مجلس میں ایک شخص بلند آواز سے بولتا تھا۔آپ نے اس کو اسی آیت کے ذریعہ سمجھایا تھا۔مجلس میں جو صدر مجلس ہو اس کے سامنے بھی زیادہ اونچی آواز نہیں کرنی چاہئیے۔وہ ستوں کو ان آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔اور رسول اور اس کے قائم مقام سے پہلے نہیں بولنا چاہیے۔اور ان سے اونچی آواز نہیں ہونی چاہئیے۔۔میں خصوصیت سے آخری حکم کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور اس حکم پر توجہ دلانے کی خاص وجہ یہ ہے کہ چونکہ ارادہ ہے کہ اس دفعہ پندرہ پاروں کے جو درس ہیں ان کے نوٹ مکمل ہو کر سپ جائیں چونکہ ان میں لغت کے حوالے بھی ہونگے۔اور محض یاد سے یہ کام ہو نہیں سکتا۔اس لئے ان کو لکھنے کی ضرورت ہے۔مگر حالت یہ ہے کہ دس منٹ بھی بیٹھ کر لکھنا نہیں ملتا۔کہ دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے اور بعض دفعہ تو اتنے زور سے کھٹکھٹایا جاتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ دروازہ ٹوٹ