خطبات محمود (جلد 7) — Page 323
۳۲۳ کے پیچھے کھڑا ہو گا۔اور اس طرح ایک لمبی قطار بن جائے گی۔اور سب یکے بعد دیگرے ٹکٹ لیں گے۔کوئی شخص لائن توڑ کر آگے نہیں بڑھے گا۔مگر ہمارے یہاں اس کے برخلاف کہنیاں چلا کرتی ہیں۔یہ تمدن کی اصلاح تعلیم اور حکومت کے ذریعہ ہوئی ہے۔پس جو قومیں ترقی کرتی ہیں ان کا تمدن بھی ترقی کرتا ہے۔بعض باتیں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی ہیں بعض میں ادنی کی اصلاح سے اعلیٰ کی اصلاح ہوتی ہے۔اور بعض میں اعلیٰ کی اصلاح سے ادنی کی اصلاح ہوتی ہے اس کے متعلق اگر ظاہری صفائی ہو تو اخلاق بھی اچھے ہو جاتے ہیں اگر کھانے پینے کی چیزیں عمدہ ہوں اور مناسب طریق پر ان کو کھایا جائے تو اس سے جسم کے ذرات تیار ہوں گے۔وہ اعلیٰ اخلاق کا موجب ہونگے۔پس اگر جسم کی نشوو نما مناسب طور پر ہو تو اس کا نتیجہ اخلاق کی درستی ہوتا ہے۔اور اخلاق کی درستی کے لئے تمدن کی اصلاح بھی ضروری ہے۔اس سورۃ میں بعض وہ اخلاق بیان کئے گئے ہیں جو بظاہر معمولی ہیں۔مگر قرآن کریم میں خصوصیت سے ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ان کے مقابلہ میں اور احکام ہیں جو بڑے ہیں۔مگر ان کا ذکر نہیں مثلاً سنتوں کا ذکر قرآن کریم میں نہیں پھر ان احکام کو ضمنا " بیان نہیں کیا بلکہ ابتدائے سورۃ ہی میں ان کو بیان کیا ہے۔اس کی وجہ یہ کہ احکام تمن اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا اثر قوم پر پڑتا ہے۔بظاہر یہ موٹی موٹی باتیں ہیں لیکن نتائج کے لحاظ سے کس قدر اہم ہیں۔اور ان کی کس قدر تاکید فرمائی ہے۔اصل حکم میں تو یہ بات نہیں مگر نتیجہ میں نکل آتی ہے۔کہ رسول کی رائے ظاہر کرنے سے قبل کسی معاملہ کے متعلق پہلے ہی سے اظہار رائے نہ کیا کرو۔کہ ہماری اس معاملہ میں یہ رائے ہے۔جب تک رسول کی رائے نہ معلوم ہو جائے اور نہ رسول کے بولتے ہوئے بولنا چاہیے جب رسول بول چکے تب بولنا چاہیے۔اس کو قرآن کریم میں نازل فرمایا۔اور سورۃ کو شروع ہی اس طرف کیا۔يا ايها الذين امنوا لا تقدموا بين يدي الله ورسوله واتقوا الله ان الله سميع علیم اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔جس وقت اللہ تعالٰی کے احکام بیان کئے جا رہے ہوں۔یا رسول گفتگو کر رہے ہوں۔ان سے مت آگے بڑھا کرو۔ان کے مقابلہ میں مت بات کیا کرو۔عربی کے محاورہ میں قدم" کسی کے سامنے بولنے کو بھی کہتے ہیں۔تو اس کے معنی ہوئے کہ اللہ اور رسول کے سامنے نہ بولا کرو۔واتقوا اللہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔بات بظاہر معمولی ہے مگر اس کا اثر تقویٰ پر پڑتا ہے۔پھر فرمایا ان الله سميع علیم کہ تمہیں خیال ہو گا کہ اگر ہم نہ بولے تو ہماری بات سنی نہ جائے گی۔فرمایا دین کا معاملہ تو خدا سے ہے۔وہ تو سنے گا۔اگر رسول یا