خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 270

ضرورت ہے کہ یہ بیان کیا جائے کہ اتقاء کیا ہے۔اتفا۔وقی سے نکلا ہے۔وقی کے معنی ہیں۔کسی چیز کو محفوظ کر دینا۔بچا دینا۔اس کے اور ضرر رساں چیزوں کے درمیان روک ہو جائے۔یا کسی کی اصلاح کر دینا۔اسے خرابی اور نقص سے بچا دینا۔یہ وقی کے معنی ہیں۔کوئی چیز جو اپنی ذات میں بگڑنے کے اسباب رکھتی ہو۔ان سے اس کو بچا دیتا۔یا ایسی چیزوں سے بچا دینا جو اسے خراب کرنے والی ہوں۔اتقاء کے معنی ہیں اپنے اندر یہ بات پیدا کرنا یعنی وقی کے جو معنی ہیں وہ اپنے اندر بات پیدا کرنا نقصان سے محفوظ ہو جانا۔دوسری چیزوں کے ضرروں اور نقصانوں سے محفوظ ہو جانا۔یا یہ معنی بھی ہونگے کہ اپنے اندر یہ حال پیدا کر لینا کہ جس سے ہماری اندرونی اصلاح ہو جائے۔پھر اتقوا اللہ کے کیا معنی ہیں؟ یہ کہ ہمارے اور خدا کے تعلقات کے درمیان جو کسی وجہ سے نقص آسکتا ہے اس سے بچ جانا۔اس کے یہ معنی نہیں کہ اللہ کوئی ضرر رساں ہے اس سے بچ جانا۔بلکہ خدا سے تعلق میں جن باتوں سے ایسا نقص پیدا ہو سکتا ہے جس پر گرفت ہو اس سے بچنے کو تقویٰ کہتے ہیں۔مطلب یہ ہوا کہ اس خرابی کو دور کرنا جس سے انسان خدا کی گرفت میں آجائے یا اندرونی اصلاح کرنا۔تو عام فہم لفظوں میں یہ مفہوم ہوا کہ تقویٰ اللہ کے معنی ہیں ایسی باتوں سے بیچ جاتا جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوتی ہیں۔یا ان باتوں کو دور کرنا جو انسان کے اندر پیدا ہو کر خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو بھڑکاتی ہیں۔پس لعلکم تتقون کے یہ معنی ہوئے کہ خدا تعالیٰ نے روزے اس لئے مقرر فرمائے ہیں کہ تم ان اشیاء کے حملوں سے بچ جاؤ جو خدا سے ناراضگی بڑھاتی ہیں یا اپنے نفسوں کی ایسی اصلاح کرو کہ خدا کی ناراضگی کے اسباب دور ہو جائیں یا یہ کہ ایسے سامان جو خواہ بیرونی ہوں یا اندرونی۔جن سے خدا ناراض ہوتا ہے ان سے بچ جاؤ۔یہ تقویٰ اللہ ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ روزے کس طرح تقویٰ اللہ کا باعث ہو سکتے ہیں اور کس طرح ان اسباب سے بچا سکتے ہیں جو خدا سے دور کرنے والے ہوں اس کا جوڑ معلوم ہونا چاہئیے کیونکہ جب جوڑ معلوم ہو تبھی کام اچھی طرح ہوتا ہے۔تعلق بتانے سے پہلے میں ان اعمال کی تقسیم بیان کرتا ہوں جن سے نیکی اختیار کی جاتی ہے یا جن پر دنیا میں کام ہو رہا ہے۔کسی کام میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے بعض کام کئے جاتے ہیں اور بعض نہیں کئے جاتے۔مثلاً ہم اپنے ماں باپ کو خوش کرتے ہیں تاکہ ہمارے اور ان کے تعلقات مضبوط ہوں۔مگر وہ تب خوش ہونگے جب ہم ان کے لئے بعض کام کریں اور بعض نہ کریں۔پھر ہمارا اپنا نفس ہے اس کی تندرستی کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ بعض چیزیں ہم کھائیں اور ایک خاص مقدار میں کھائیں اور بعض نہ کھائیں۔جو کھانے والی ہیں۔اگر مقررہ مقدار سے کم کھائیں