خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 271

گے۔تو ہماری تندرستی قائم نہیں رہے گی اور جو نہیں کھانے والی وہ اگر کھائیں گے تو بھی صحت نہیں رہے گی۔اسی طرح دوستوں، حاکموں، آقاؤں کے ساتھ کرتے ہیں کہ بعض باتیں ان کی خاطر کی جاتی ہیں۔اور بعض ان کے لئے چھوڑ دی جاتی ہیں۔فنون سیکھنے کے لئے بھی یہی کرنا پڑتا ہے۔انسان کوئی فن نہیں سیکھ سکتا جب تک بعض کام کرے اور بعض نہ کرے مثلاً روٹی پکانا ہے پہلے ضروری ہے کہ اس میں مناسب حد تک پانی ڈالے۔زیادہ نہ ڈالے۔ورنہ آٹا پتلا ہو جائے گا پھر خاص حد تک اس کو چوڑا اور گول کرے اگر زیادہ بڑھائی جائے گی تو روٹی نہ پکے گی پھر آگ جلائے اور مناسب حد تک جلائے اور زیادہ نہ جلائے تب روٹی پکے گی۔اس طرح مثلاً زمیندار ہے اس کو بھی اپنے کام کے انجام دینے کے لئے بعض باتیں کرنی پڑتی ہیں۔اور بعض سے رکنا پڑتا ہے مثلاً زمیندار ہل چلانے پر مجبور ہے اور مجبور ہے کہ بیچ ڈالے لیکن اس پر بھی مجبور ہے کہ ایک ہی جگہ اور قریب قریب ملا کر پیچ نہ ڈالے یا گھنے درخت کے نیچے بیچ نہ ڈالے۔اگر ملا کر ڈالے گا تو پیج خراب ہو جائے گا۔تو جتنے کام ہیں تبھی مکمل ہو سکتے ہیں کہ ان کی تکمیل کے لئے بعض کام کئے جائیں اور بعض نہ کئے جائیں اسی طرح خدا سے تعلق تب مضبوط ہو سکتا کہ بعض کام کریں اور بعض نہ کریں۔کرنے کے کام حرکت چاہتے ہیں اور نہ کرنے کے سکون ان دونوں باتوں اور حالتوں کو پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں احکام دیئے ہیں۔جن میں سے ایک صلوٰۃ (نماز) ہے اور دوسرا صوم صلوۃ کے فعل میں حرکت پائی جاتی ہے۔اور صوم کے معنی میں رکتا پایا جاتا ہے نماز قائم مقام ہے ان باتوں کی جو کرنے کی ہیں۔اور روزہ قائم مقام ہے ان باتوں کا جو نہ کرنے کی ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ بس یہی دو احکام ہیں۔شریعت کے احکام تو بہت ہیں مگر یہ دونوں احکام دونوں قسم کے احکام کے لئے مرکزی نقطہ اور قائم مقام ہیں۔یعنی کرنے کے احکام صلوۃ کے ماتحت آ جاتے ہیں اور نہ کرنے کے احکام صوم کے ماتحت اور ان دونوں سے تقویٰ اللہ پیدا ہوتا ہے۔جب تک یہ دونوں طرح کے احکام نہ بجالائے جائیں تقویٰ اللہ نہیں پیدا ہو سکتا۔نماز پڑھنے کا یہ مطلب ہے کہ میں خدا کے حکم سے یہ کام کرتا ہوں اور روزے رکھنے کا یہ مدعا ہے کہ میں خدا کے حکم کے ماتحت یہ کام چھوڑتا ہوں۔نماز کا چونکہ یہاں ذکر نہیں اس لئے میں اس کی تفصیل چھوڑتا ہوں اور روزے کو لیتا ہوں۔روزے میں حکم ہوتا ہے کہ یہ کرو وہ نہ کرو۔مثلاً حکم ہوتا ہے کہ روٹی نہ کھاؤ۔پانی نہ پیو۔بیوی خاوند کے تعلقات کے پاس نہ جاؤ۔اور نماز میں حکم ہوتا ہے۔وضو کرو اور اس طرح کرو۔کھڑے ہو جاؤ اور یوں کھڑے ہو اور فلاں سمت کو کھڑے ہو۔جھکو اور یوں جھکو وغیرہ۔گویا نماز میں کرنے اور روزہ میں نہ کرنے کا حکم ملتا ہے۔جس طرح نماز میں اللہ نے یہ بتایا کہ جو کرو ہمارے حکم سے کرو۔اسی طرح روزہ میں حکم دیا کہ جو کچھ نہ کرو ہماری ممانعت سے نہ کرو۔اس طرح کوئی انسانی فعل نہیں جو خدا کے تصرف سے باہر