خطبات محمود (جلد 7) — Page 269
۲۷۹ 50 50 فلسفه صوم و صلوة (فرموده ۱۲ ر مئی ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ اور آیت شریفہ یا ايها الذين امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون (البقرة ۱۸۳) کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں نے پچھلے خطبہ میں یہ بات بیان کی تھی کہ احکام الیہ انسان کے نفع کے لئے ہیں۔یعنی ان کی غرض انسان سے کچھ لینا نہیں ہوتا۔بلکہ کچھ دینا ہوتا ہے۔چنانچہ اس آیت میں بھی جو میں نے پڑھی ہے روزوں کے فرض کرنے کی وجہ بتائی گئی کہ لعلكم تتقون تاکہ متقی ہو جاؤ۔روزہ سے تم لوگوں کا متقی بنا دیتا غرض ہے۔روزے کس طرح متقی بنا دیتے ہیں؟ اور تقویٰ کیا چیز ہے؟ ان دو سوالوں کے حل ہونے سے یہ آیت حل ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب کسی چیز کی تعریف معلوم ہو جائے تو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کس طرح حاصل ہو سکتی ہے اگر یہ معلوم نہ ہو کہ روٹی کیا چیز ہے تو کسی کے یہ کہنے سے کہ آگ جلاؤ۔روٹی پکائیں۔آگ جلانے اور روٹی پکانے کا تعلق معلوم نہ ہو گا۔فرض کرو کہ جوتی یا کپڑے کا نام روٹی ہوتا تو یہ کہنے پر کہ آگ لاؤ۔روٹی پکائیں۔واقف یہ کہنے والے پر نہیں گے پس اگر کسی چیز کی تعریف معلوم نہ ہو۔تو اس سے تعلق رکھنے والی باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔اور یہ نہیں معلوم کر سکتے کہ فلاں چیز فلاں چیز کے ذریعہ سے کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔مثلاً اگر کوئی کہے کہ قینچی لاؤ۔روٹی پکائیں تو نا واقف سمجھیں گے کہ قینچی کا روٹی پکانے سے تعلق ہو گا لیکن اگر کسی کو معلوم ہو کہ روٹی پکانے کے لئے پہلے آٹا گوندھتے ہیں پھر آگ جلاتے ہیں۔تو وہ کہے گا کہ قیچی کا روٹی پکانے سے تعلق نہیں۔روٹی تو آٹا گوندھ کر آگ پر پکائی جاتی ہے۔پس ہمیں پہلے مقصد معلوم ہونا چاہیے پھر تطابق معلوم ہو جائے گا۔اس لئے ہمیں معلوم ہونا چاہئیے کہ کس طرح روزوں سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔اس آیت کا مفہوم بیان کرنے سے پہلے