خطبات محمود (جلد 7) — Page 216
۲۱۶ 41 خدا پر ایمان اور مخلوق کی گواہی فرموده ۷ار فروری ۱۹۲۲ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔دنیا میں مختلف مذاہب کی اشاعت اور ان کا آپس میں امتیاز دو باتوں پر منحصر ہے۔ایک اندرونی حالت اور ایک بیرونی حالت۔اندرونی حالت وہ حالت ہے جو خدا سے ان کا تعلق ہے۔اور بیرونی حالت وہ ہے جو کوئی قوم یا مذہب والے اخلاق دنیا میں ظاہر کرتے ہیں۔کس کا خدا سے کیا تعلق ہے اس کو دوسرا نہیں جان سکتا۔دوسرے انسان جو کسی کی حالت کو دیکھتے ہیں وہ اس کے اخلاق۔اس کے دوسروں سے سلوک اور معاملہ سے دیکھتے ہیں۔یہ بات ان کی عقل سے بالا ہے کہ کسی کا خدا سے کیا تعلق ہے۔جب تک کہ خدا ہی اپنے تعلق کا اظہار نہ کرے۔اور خدا کی طرف سے تعلق کا اظہار بہت اعلیٰ درجہ پر ہوتا ہے۔پس بندے کا جو خدا سے تعلق ہے۔وہ ظاہر نہیں۔کیونکہ یہ ایک قلبی حالت ہے۔ایک شخص جو خدا سے محبت کرتا ہے مگر خاموش ہے۔اور ایک دوسرا جو رسا " خدا کی محبت کا اظہار کرتا ہے اور اس کی تعریف کرتا ہے۔لوگوں کی نظر میں زیادہ مقبول نظر آئے گا۔اس لئے وہ مقام بہت بلند ہے جب خدا کی محبت جلوہ گر ہوتی ہے اور بتا دیتی ہے کہ خدا اس سے محبت کرتا ہے۔اس وقت یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ جس کا دوست ہوتا ہے۔خدا اس کا دوست ہوتا ہے اور جو اس کا دشمن ہوتا ہے۔خدا اس کا دشمن ہو جاتا ہے اس کے دشمن کو ہلاک اور دوست کو اپنے فضل سے نوازتا ہے۔اس کی مشکلات کو دور کرتا ہے۔اور اس کی تائید کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔غرض کئی رنگ میں خدا تعالیٰ اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔مگر جب تک خدا اظہار نہ کرے۔بندوں کے لئے سمجھنا مشکل ہے زیادہ محبت کرنے والا خاموش ہو تو اس کی خاموشی سے دھو کہ کھا کر کم محبت کرنے والے اور زیادہ بولنے والے مگر محبت سے خالی کو خدا کا محبوب سمجھ لیتے ہیں۔لیکن جو حالت ظاہر ہوتی ہے۔وہ مذہب اور اہل مذہب کی اخلاقی حالت ہوتی ہے۔خدا کی محبت کا ثبوت دیر میں ملتا ہے۔مگر اخلاق کی تبدیلی کا علم ایک دن میں ہو جاتا ہے۔وہ ایک دن میں