خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 217

انسان کو دنیا میں ظاہر کر دیتی ہے۔اندرونی حالت کے اظہار و شہادت کے لئے لمبا عرصہ اور بڑی مدت درکار ہے۔ایک عام آدمی مدت تک اپنے عقائد کی نگرانی کرے گا۔اور الہی ارشادات کی تعمیل کرے گا۔تب اس کا اظہار ہوگا۔گو ایک اعلیٰ درجہ والا جلد اس شہادت کو حاصل کر سکے گا۔مگر بہت جلد جو تبدیلی ہوتی ہے۔وہ اخلاق کی تبدیلی ہے۔اس کی بھی دو صورتیں ہیں۔ایک ہم مذہب کے لئے دوسری ساری دنیا کے لئے مثلاً اسلام سچا ہے۔اس کے ذریعہ خدا سے تعلق ہوتا ہے۔ایک شخص اگر اسلام قبول کرتا ہے۔اور احمدی جماعت میں داخل ہوتا ہے تو وہ نماز پڑھتا ہے۔روزے رکھتا ہے۔پہلے اگر نماز کے وقت سیر کو جاتا تھا۔تو اب مسجد میں آتا ہے۔یہ فوری تبدیلی ہے۔پہلے نماز کا خیال نہ تھا۔اب نماز کا پوچھتا ہے کہ ہو تو نہیں چکی۔وضو کرتا ہے۔یہ شہادت ہے مگر ماننے والوں یا ہم مذہبوں کے لئے یہ تغیر فورا ہوتا ہے۔مگر اندرونی تغیر کب ہو گا۔اس کو خدا جانتا ہے۔ظاہر میں اس کے جو ایک نمایاں تغیر نظر آتا ہے۔یہ مسلمان کے لئے ہے۔ہندو اس کو رسم کی پابندی کے گا۔دوسرا جو غیر مذہب والوں کے لئے ہے۔اور اس کی بناء پر ایک حد تک اس کے قلب پر بھی گواہی دی جا سکتی ہے یہ ہے کہ اخلاق میں تغیر ہو۔اگر پہلے جھوٹ بولتا تھا۔اب جھوٹ سے پر ہیز کرے۔اگر پہلے غریبوں کا حق مارتا تھا تو اب ان کے حقوق ادا کرے۔اگر پہلے بد معالمہ تھا تو معاملہ درست کرے۔اگر پہلے بھاؤ میں کمی کرتا تھا تو اب اس کو چھوڑ دے۔اس تغیر سے ایک ہندو بھی معلوم کر لے گا کہ ہاں اس میں کوئی تغیر ہے۔ان میں کسی بڑی محنت کی ضرورت نہیں۔ان میں جو باریکیاں ہیں۔وہ مشق کے بعد آتی ہیں۔مگر جو بڑی بڑی باتیں ہیں۔ان میں یکدم اصلاح ہو جاتی ہے۔یعنی وہ کبھی دانستہ جھوٹ نہیں بولے گا۔دانستہ بد معاملگی یا حق تلفی نہ کرے گا۔اگر ان سے کوئی بات ہوگی۔تو دانستہ نہیں بلکہ نادانستہ اور اس کا علم اس کو مشق اور کوشش کے بعد آئے گا۔ممکن ہے اس سے بددیانتی ہو۔ظلم ہو۔خیانت ہو۔مگر وہ دانستہ نہیں ہونگے۔لیکن جو لوگ کسی صداقت کو قبول کرتے ہیں۔مگر ان میں تغیر نہیں ہوتا۔بلاوجہ ظلم کرتے ہیں۔(ظلم ہوتا ہی بلاوجہ ہے) ان کے اندر تغیر نہیں ہوتا۔یہاں باریک بد دیانتی یا ظلم کا سوال نہیں۔کیونکہ یہ مشق سے دیر کے بعد سمجھ میں آتی ہے۔مگر موٹی باتوں کے لئے لمبے زمانہ کی ضرورت نہیں۔دیکھو حرمت شراب کا حکم پندرہ سال کے بعد نازل ہوا۔مگر جھوٹ ترک کرنے کا حکم پندرہ سال کے بعد نازل نہیں ہوا۔اسی طرح دوسرے مسائل۔ورثہ نکاح وغیرہ صاحب شریعت نبی کی بعثت کے کئی کئی سال بعد نازل ہوئے۔مگر یہ کوئی مثال نہیں ملتی کہ جھوٹ کے ترک کرنے کے احکام بھی کئی سال کے بعد نازل ہوئے ہوں۔اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ جب کوئی مذہب اختیار کرتا ہے۔اسی دن ان کمزوریوں کو چھوڑ دیتا ہے۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو ممکن ہے جھوٹ وغیرہ