خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 139

رہی ہو گی۔اور دشمن کی توپیں گرج رہی ہوں گے۔اور پیچھے سے ایسے لوگ پکڑ پکڑ کھینچیں گے۔اور رکاوٹیں ڈالیں گے کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں جانے دیں گے۔ایسے موقع پر اور ایسی گھڑی میں ملک کے افراد جب تک یہ نہ جانتے ہوں گے کہ اس لڑائی کے نتیجے میں ہمیں بہت بڑا نفع حاصل ہو گا۔بچوں کا مرنا ہمارے آزاد رہنے کا باعث ہو گا۔اور ٹیکسوں کا لگتا لاکھوں اور کروڑوں روپے لانے کا ذریعہ ہو گا اس وقت تک دشمن کے مقابلہ میں فتح نہیں بلکہ شکست ہوگی۔لیکن جب ملک کا ہر ایک فرد یہ سمجھتا ہو کہ یہ روپیہ ضائع نہیں جائے گا۔بلکہ بیج ہوگا جس سے لاکھوں اور کروڑوں روپے پیدا ہوں گے یہ بچے مریں گے نہیں۔بلکہ قوم کی کھیتی کے لئے آبیاری کا کام دیں گے۔یہ گاؤں اور کھیتیاں برباد نہیں ہوں گی۔بلکہ در حقیقت ملبہ ڈال کر ایک ایسا اونچا چبوترا بن رہا ہو گا جسے کوئی سیلاب نہ گرا سکے گا۔تب فتح ہوگی۔کیونکہ اس وقت ہر ایک کھڑا ہو جائے گا۔اور جو کوئی اس کے خلاف کوئی بات کہے گا۔اس کو گرا دے گا۔اس وقت حکومت کو ضرورت نہ ہوگی کہ پیچھے سے کھینچنے والوں کی طرف توجہ کرے۔کیونکہ دوسرے لوگ خود اس کام کو سنبھال لیں گے اور حکومت کو کہیں گے جاؤ تم جاکر دشمن کا مقابلہ کرو ہم ان لوگوں کا انتظام خود کر لیں گے۔تب حکومت کی توجہ نہ ہٹے گی۔اور وہ دشمن کو شکست دینے میں کامیاب ہو سکے گی۔پس وہ قوم اور وہ جماعت جس کے افراد میں یہ عقل اور یہ سمجھ نہ ہو کہ سیاست کو سمجھ سکیں۔وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔اس لئے پہلے تو میں عام نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر ایسی عقل اور سمجھ پیدا کرو کہ تمہارے دماغ بے عقلی اور جہالت کی طرف متوجہ نہ ہوں بلکہ اپنے دماغ اور عقل کو نیک باتوں کی طرف لگاؤ۔جس قوم نے ترقی کرنی ہوتی ہے۔اس کے افراد ایسے نہیں ہوتے کہ ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی بات انہیں سمجھائی جائے۔تب ہی وہ سمجھیں۔بلکہ ان کے اندر ایسا مادہ ہوتا ہے کہ خود بخود ایسی باتوں کو سمجھ لیتے اور ان کے مطابق اپنا طرز عمل بنا لیتے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں۔جن میں یہ مادہ نہیں ہے۔”بہت سے" سے مراد اکثر نہیں ہے۔جیسا کہ پہلے جب میں نے اس قسم کا فقرہ کہا تھا۔تو دشمنوں نے اس سے اکثر لوگ سمجھ لئے۔اور سلسلہ کے مسلمہ مخالف (ثناء اللہ) نے اس پر پھبتیاں اڑائیں۔پس اکثر اور ہے۔اور بہت اور ان میں بڑا فرق ہے۔تو بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں۔جن میں اتنی عقل و خرد نہیں ہوتی۔کہ بات کو صحیح طور پر سمجھیں۔بلکہ وہ ہر بات سے الٹا نتیجہ نکال کر اپنی بھی عقل مارتے ہیں۔اور دوسروں کو بھی تنگ کرتے ہیں۔ان باتوں میں سے ایک بات جس پر سلسلہ خطبات شروع ہے۔یہ ہے کہ جو کام اس وقت ہو رہا ہے۔اس کا بوجھ موجودہ حالات میں جماعت کی برداشت سے باہر ہے۔اس وجہ سے مالی بجٹ