خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 140

۱۴۰ میں کارکنان کو بہت سی تخفیف کرنی پڑی۔اور بعض کو الگ کیا گیا۔کئی تو ہٹائے گئے۔اور بعضوں کی تنخواہوں میں کمی کی گئی۔اور بعض اور اخرجات کم کر دئے گئے۔اس کے متعلق جو کچھ ہوا۔پہلے اپنے اپنے صیغوں نے کیا۔پھر میرے پاس لائے۔اور میں نے کئی دن لگا کر اخراجات میں اور بھی کمی کی۔جو کم از کم تھیں چالیس ہزار کے قریب ہوگی۔اور اس طرح ایسی صورت پیدا کی۔کہ جو موجودہ آمد ہے۔اس سے پچھلے مشکلات ایک دو سال میں رفع کئے جا سکیں۔یہ تخفیف جو پہلے یا میرے سامنے ہوئی ایک اصل کے ماتحت کی گئی۔پہلے تو یہ تجویز کی گئی کہ تحط الاؤنس اڑا دیا جائے۔یا کوئی اور ایسی تجویز کی جائے جس سے سب کی تنخواہوں پر اثر پڑے۔لیکن میں نے کہا یہ طریق غلط ہے۔جن کو تھوڑی تنخواہ ملتی ہے ان کی تنخواہ میں کمی کرنے سے ان کا گزارہ نہیں ہو سکے گا۔کیونکہ وہ بمشکل ضروریات زندگی مہیا کر رہے ہیں۔لیکن بڑی تنخواہوں والے کچھ ایسے بھی اخراجات رکھتے ہیں۔جن میں کمی کی جا سکتی ہے۔اس لئے سب کی تنخواہ کم نہیں کرنی چاہئیے۔بلکہ صرف ان کی کم کرنی چاہئیے۔جن کا کھانے اور کپڑوں کے علاوہ اور چیزوں پر خرچ ہوتا ہے۔اس لئے ہمیں ان کی تنخواہوں پر ہاتھ صاف کرنا چاہیئے۔چنانچہ سو سے اوپر۔تنخواه رکھنے والوں کی ۲۰ فیصد اور سو سے ساٹھ تنخواہ والوں کی ۱۵ فیصد تنخواہ کم کر دی گئی۔جب یہ فیصلہ ہوا۔تو صیغہ جات نظارت والے سب موجود تھے۔میں نے انہیں کہا تم کو اگر یہ منظور ہے۔تو بڑی خوشی کی بات ہے۔ورنہ ہم ان کو رکھ سکتے ہیں۔جو اس تجویز کے ماتحت رہیں۔اور جو نہ رہنا چاہئیں وہ ہماری طرف سے آزاد ہیں۔ہمیں ان پر کوئی گلہ نہیں ہو گا۔لیکن ان لوگوں نے نہایت خوشی اور پرجوش طور پر اس تجویز کو قبول اور منظور کرلیا۔اور کہا بے شک ہماری تنخواہوں کو کاٹ لیا جائے۔بلکہ میں نے تو یہاں تک نمونہ دیکھا کہ ایک شخص کی تنخواہ ۶۲ یا اس کے قریب قریب تھی۔اس کو کہا گیا۔کہ تمہاری تنخواہ پر اس تجویز کا اثر نہیں ہوگا۔اس نے کیا کیوں نہیں ضرور ہونا چاہئیے۔اس کے بعد صدر انجمن کے کارکن آئے۔ان کو میں نے لکھ کر تحریر دی کہ جو اس کے مطابق کام کرنا چاہیں کریں۔اور جو نہیں کرنا چاہتے ان کو بھی ہم مجبور سمجھتے ہیں۔ہماری حالت یہ ہے۔اس کے مطابق جو کام کرنا چاہیں کریں۔تو ایک یہ بات تجویز کی گئی۔کہ جو تھوڑی تنخواہ لینے والے ہیں۔ان کی تنخواہوں میں کمی نہ کی جائے اور دوسری یہ کہ جن کی تنخواہ زیادہ ہے ان کی کم کی جائے۔اور تیسری یہ کہ ایسے ملازم (یہ لفظ پہلے استعمال کی وجہ سے غلطی سے نکل گیا ہے) ایسے کارکن کہ جن کے بغیر کام چل سکتا ہے ان کو ہٹا دیا جائے۔اور ان کا کام دوسروں پر ڈال دیا جائے۔اس تجویز کے ماتحت کچھ کام کرنے والے