خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 138

نے کہا حضور کرے گا انہوں نے کہا۔پھر یہ بتاؤ۔جب تم خدا کا قرب حاصل کرنے اور لوگوں کو ہدایت کی طرف لانے کی کوشش کرو گے۔اور شیطان تمہارا مقابلہ کرے گا۔تو تم کیا کرو گے؟ اس نے کہا میں اس سے لڑوں گا۔انہوں نے کہا اچھا تم اس سے لڑو گے اسے ہٹا دو گے اور دور کر دو گے مگر پھر جب تم نے خدا کی طرف توجہ کی وہ پھر آجائے گا۔پھر کیا کرو گے؟ اس نے کہا۔پھر دھتکار دوں گا۔انہوں نے کہا اس پر وہ چلا گیا۔لیکن جب تم توجہ کرنے لگے۔پھر آگیا؟ شیطان چونکہ کتا یا کوئی اور جانور نہیں۔جس کے متعلق وہ یہ کہہ سکتا کہ مار ڈالوں گا اس لئے وہ یہی کہہ سکتا تھا کہ بھگا دوں گا اور بزرگ کہتے۔وہ پھر آجائے گا۔اس پر وہ حیران ہو گیا۔بزرگ نے کہا اچھا میں ایک اور بات پوچھتا ہوں۔اور یہ کہ تمہارا ایک دوست ہے۔جس نے اپنی حفاظت کے لئے ایک کتا پالا ہوا ہے۔تم اس سے ملنے کے لئے گئے۔لیکن کتے نے تمہیں روک دیا اس وقت کیا کرو گے؟ اس نے کہا کہ میں کتے کو مار کر ہٹاؤں گا۔انہوں نے کہا وہ پھر آجائے گا۔دوست کا کتا ہونے کی وجہ سے وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا۔کہ مارڈالوں گا۔اس لئے صحیح اور سچی بات کی طرف راہ نمائی ہوئی۔اس نے کہا۔میں دوست کو کہوں گا کہ آؤ اور اپنے کتے کو ہٹاؤ۔اس پر بزرگ نے کہا کہ بس شیطان کے مقابلہ میں بھی تم اسی طرح کرنا۔جب وہ بار بار تمہارے مقابلہ میں آئے تو خدا تعالیٰ کو ہی کہنا کہ خدایا آپ ہی اسے بنائیے کہ یہ مجھے آپ کی طرف آنے نہیں دیتا۔تب وہ ہے گا۔اس میں ایک نکتہ ہے۔اور وہ یہ کہ کوئی انسان کوئی قوم کوئی جماعت کوئی ملک کوئی حکومت اس وقت تک اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔جب تک اس کے پاس اس کتے کے ہٹانے کا سامان نہ ہو۔جو پیچھے سے اسے پکڑتا اور مقصد اور مدعا کی طرف جانے سے روکتا ہے۔جب کوئی قوم کسی مقصد اور غرض کے لئے کھڑی ہوتی ہے اور جب کوئی حکومت کسی ملک پر چڑھائی کرتی ہے۔تو اس کو کچھ تو سامنے سے کرنا ہوتا ہے۔اور کچھ پیچھے سے۔مثلاً ایک حکومت ہے جس کی کسی دوسرے ملک سے لڑائی شروع ہو گئی ہے۔اس وقت ایک تو آگے سے اسے دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اور کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اس خیال سے کہ لڑائی شروع ہونے کی وجہ سے ان پر ٹیکس لگیں گے کہیں گے لڑائی چھوڑ دو۔ہم نہیں لڑنا چاہتے۔کچھ ایسی عورتیں ہوں گی جو اس وجہ سے کہ لڑائی میں ان کے بچے مریں گے۔کہیں گی۔لڑائی نہیں کرنی چاہئیے کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو سمجھیں گے کہ فوجیں ان کے کھیتوں میں سے گذریں گی۔کہیں خندقیں کھودی جائیں گی۔کہیں قلعے بنائے جائیں گے۔کہیں کھیتیاں کائی جائیں گی۔کہیں مکان اور عمارتیں گرائی جائیں گی اس لئے کہیں گے۔ہمیں لڑائی میں پڑنے کی ضرورت نہیں گویا آگے سے تو دشمن کی تلوار چمک