خطبات محمود (جلد 7) — Page 423
پرا نے اس پر احسان کیا ہے۔ایک دوست کے تھوڑی دیر لالٹین دینے کو احسان سمجھتا ہے۔مگر خدا کے اتنے بڑے سورج کو احسان نہیں سمجھتا۔جو اس کے لئے ہر روز چڑھتا ہے۔یہ نہیں کہ وہ سورج کو چڑھتے نہیں دیکھتا۔دیکھتا ہے مگر اس کی قدر نہیں کرتا اور اس کو نہیں پہچانتا۔پس بہت ہیں جو احسان کی قدر کرتے ہیں۔مگر بہت سے احسانات کو وہ شناخت نہیں کر سکتے۔ایسے لوگوں کے نزدیک احسان صرف روپیہ دینے کا نام ہے۔وہ ایسے لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ان سے کوئی مالی سلوک کریں۔خدا کے لئے خدا کے بندوں سے محبت کرنے والوں کی بہت کمی ہے۔اگر وہ خدا کے لئے اس کی ساری مخلوق سے محبت کریں۔وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ان سے محبت کرتا ہے۔لیکن اگر وہ خدا کے لئے محبت کریں۔تو ان کی محبت عام ہو۔بعض لوگ ہیں جو دشمن کو معاف نہیں کر سکتے۔حالانکہ اگر وہ سوچیں کہ یہ ہمارے رب کا بندہ ہے تو وہ ضرور اس کو معاف کر دیں۔ایسے لوگ اپنی دشمنی کو خدا کے تعلق پر مقدم کر لیتے ہیں۔حالانکہ دانائی یہ ہے کہ خدا کے تعلق کو مقدم کیا جائے۔کیونکہ اگر کوئی شخص تم سے بدسلوکی کرتا ہے۔مگر تمہارے باپ سے اس کا اچھا تعلق ہے اور وہ تمہارے باپ پر احسان کرتا ہے تو تم اپنی ذات کے خیال کو چھوڑ کر باپ کے تعلق کو مقدم کرو گے۔اور کہو گے کہ کو اس نے مجھے نقصان پہنچایا ہے۔لیکن چونکہ اس نے میرے باپ سے اچھا سلوک کیا ہے۔اس لئے میں اس کی عزت کروں گا۔پس اس طرح اس بات کو سمجھنا چاہئیے کہ گو ایک شخص تمہارا دشمن ہے تم سے بدسلوکی کرتا ہے۔مگر اس کا خدا سے تعلق ہے اس لئے ہماری اور ذاتی دشمنی کی خدا کے تعلق کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں۔یہی نیک لوگوں کا قاعدہ ہے۔وہ دیکھتے ہیں گو فلاں ہمارا دشمن ہی ہے لیکن ہمارے خدا کا بندہ تو ہے یا اس کا اس سے تعلق شخصی ہے۔اور اس میں شبہ نہیں کہ خدا ہی کا تعلق قابل لحاظ ہے۔اسی کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔دیکھو بنی نوع انسان سے نیک سلوک کو حدیث میں کس قدر اہمیت دی گئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ سخت تپش ہو گی ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسی تہش ہوگی مگر ہم ایمان رکھتے ہیں ضرور تپش ہوگی اور بہت سخت ہوگی۔کچھ لوگ اللہ تعالی کے عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے ان میں وہ شخص بھی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہو گا۔بہت سے نادان ہیں جو اس حدیث کے غلط معنی کرتے ہیں مثلاً اگر وہ زید سے محبت کرتے ہیں اور بکر سے نہیں کرتے تو وہ زید کی محبت کے متعلق کہتے ہیں کہ ہم خدا کے لئے اس سے محبت کرتے ہیں۔حالانکہ اگر خدا کے لئے محبت ہوتی تو زید بکر دونوں سے ہوتی۔یہ ممکن ہے کہ ذاتی وجوہات کی بنا پر تم زید سے محبت کرو اور بکریا خالد سے نہ کرو۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نواسے حسن اور