خطبات محمود (جلد 7) — Page 424
حسین رضی اللہ تعالیٰ عنما تھے ان کے ذاتی دوست بھی ہوں گے ایک شخص کو حضرت امام حسن کا مزاج پسند ہو گا۔اور دوسرے کو امام حسین کا اور اپنے مذاق کی مطابقت سے وہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین دونوں میں سے ایک کے ساتھ محبت کرتے ہونگے۔ایسے لوگوں کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جو امام حسن یا امام حسین سے محبت کرتے ہیں۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہونے کے باعث کرتے ہیں کہ اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہونے کے باعث محبت کرتے تو امام حسن اور امام حسین دونوں میں سے ایک سے محبت نہ کرتے۔بلکہ دونوں سے کرتے۔کیونکہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ تھے۔اسی طرح جو شخص اللہ تعالی کے لئے محبت کرے گا وہ اس کے سب بندوں سے محبت کرے گا۔پس اگر خدا کے لئے محبت کرنی ہے تو تمام بنی نوع انسان سے محبت کرو خدا کے لاکھوں کروڑوں بندے ہیں خدا کے لئے محبت کرنے والوں کا فرض ہے کہ سب سے محبت کریں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے خدا کے بندے بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کو خدا تعالیٰ چن لیتا ہے اور ایک عام بندے ہوتے ہیں۔اپنے رسولوں کو اس نے آپ چن لیا۔اولیاء و مجددین کو چن لیا۔اس لئے جن لوگوں کو اپنے بندوں میں سے خدا تعالیٰ نے چن لیا ہے ان سے محبت کے ساتھ انکی اطاعت کرنا بھی ضروری ہے۔اور جو اس کے عام بندے ہیں گو ان کی اطاعت کرنی ضروری نہیں لیکن ان سے محبت اور نیک سلوک اور ہمدردی لازمی ہے۔پس جو خدا کے لئے محبت ہوگی وہ سب کے ساتھ ہوگی۔اور جن کو اس نے چنا ہے ان کی اطاعت بھی کی جائے گی۔اس حال میں کسی ایک شخص کی خصوصیت نہیں رہتی۔پس اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ بنی نوع انسان سے محبت کرو۔کسی ایک کی خصوصیت نہیں سب سے محبت کرو۔خدا کے لئے محبت کرنے کے یہی معنی ہیں رسولوں اور ماموروں کی جو خصوصیت ہوتی ہیں وہ ان کے منتخب ہونے کے باعث سے ہوتی ہے ان کی اطاعت اللہ تعالٰی کے منشاء اور اس کی رضا کے ماتحت ہوتی ہے۔اس کے خلاف نہیں ہوتی۔پس مدارج کے فرق کو چھوڑ کر تمام بنی نوع انسان سے محبت ضروری اور لازمی ہے۔میرا اس یہ مطلب نہیں کہ زید و عمر سے دوستی نہ کی جائے۔بلکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو کہا ہے کہ قیامت کے دن خدا کے عرش کے سایہ کے نیچے وہ شخص ہوگا جو خدا کے لئے محبت کرتا ہے۔اس محبت کرنے سے مراد ایک آدھ شخص سے محبت اور سلوک کرنے والا نہیں بلکہ وہی شخص ہے جو خدا کی ساری مخلوق سے محبت کرتا ہے۔پس ایک ہی سے محبت نہ رکھو۔بلکہ سے محبت رکھو۔ورنہ زید و بکر کی محبت خدا کے لئے نہیں ہو سکتی کیونکہ کئی وجوہ ہو سکتے ہیں۔جن