خطبات محمود (جلد 7) — Page 374
۳۵۴ مذاہب ہی کے دل میں ہے۔بلکہ ایک دہریہ کے دل میں بھی ہے۔وہ محسوس کرتا ہے کہ رحم اچھا ہے۔ظلم برا ہے۔دیانت اچھی ہے خیانت بری ہے۔صداقت اچھی ہے جھوٹ برا ہے۔جس طرح ان باتوں کا احساس ایک مسلمان کے دل میں ہے۔اسی طرح دیگر مذاہب کے لوگوں میں بھی اس کا احساس ہے۔اور یہ تار ہے جو سب کے دل میں لگا ہوا ہے۔دیکھو امر تسر یا کسی اور مقام سے جہاں پر تار ہے۔اگر تار دیا جائے تو بٹالہ میں پہنچ جائے گا۔لیکن بٹالہ سے قادیان میں تار نہیں پہنچ سکتا۔کیونکہ بٹالہ اور قادیان کے درمیان سلسلہ تار نہیں۔اس طرح قرآن و حدیث کا ایک ہندو ایک عیسائی ایک سکھ اور پارسی کے دل کے ساتھ جوڑ نہیں۔اس لئے قرآن حدیث کے حوالے ان کے سامنے بیکار ہوں گے۔لیکن اخلاق کی ٹیلی فون سب کے دل میں ہے۔گو اخلاق کی تار قرآن و حدیث کے مقابلہ میں کمزور ہے۔مگر پہنچ ضرور جائے گی۔کیونکہ اس کا سلسلہ سب دلوں میں ہے۔اور قرآن و حدیث کا سلسلہ سب دلوں میں نہیں۔پس وہ باتیں جو غیر مذاہب پر اثر کر سکتی ہیں۔وہ اخلاق، قربانی، ایثار، محبت وغیرہ ہیں وہ تم کو دیکھتے ہیں۔اگر تم میں یہ باتیں ہیں تو قرآن و حدیث کے حوالے پیش کرنے سے زیادہ ان پر صداقت اسلام کا اثر ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کونسی چیز تھی جو مخالفین پر اثر کرتی تھی۔وہ قرآن کریم سے ابتدا متاثر نہیں ہوئے۔بلکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زندگی تھی۔آپ ان میں رہے تھے۔آپ کی دیانت، آپ کی راستبازی اور ہمدردی خلائق اور ایثار تھا جو ان پر اثر کرتا تھا۔دعوئی سے پہلے آپ ان کو شرک سے منع نہیں کرتے تھے کیونکہ حکم خداوندی نہ تھا لیکن آپ خود مشرک نہ تھے۔آپ کے طور طریقہ کی خوبی ہی تھی جس کا اثر تھا۔اور یہ اثر اندر ہی اندر کھاتا جاتا تھا اور وہ اس کے مقابلہ میں آنکھیں نہیں اٹھا سکتے تھے۔آپ مکہ کے قریب کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور ایک ایک قبیلہ کا نام لیکر بلایا جب سب جمع ہو گئے تو آپ نے ان کے سامنے ایک مشکل سوال رکھا کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس کے پیچھے ایک لشکر ہے تو تم مان لوگ گے۔یہ ایک ناممکن امر تھا۔کیونکہ مکہ کے لوگ اونٹ چراتے تھے اور اس کے لئے پندرہ پندرہ میل تک دور نکل جاتے تھے۔یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ ایک لشکر اور بہت بڑا لشکر مکہ کے قریب اگر ایک اوٹ میں ہو رہتا اور مکہ والوں کو پتہ بھی نہ لگتا۔مگر ان لوگوں نے آپ کے اس ناممکن سوال کے جواب میں کہا اور آپ کے اخلاق سے متاثر ہو کر کہا کہ اگر تو کہے تو مان لیں گے کیونکہ ہم نے کبھی تجھ کو جھوٹ بولتے نہیں سنا۔اور تو ہمیشہ دیانت دار رہا ہے۔تو ہمیشہ سچ بولتا رہا ہے۔آپ نے فرمایا اچھا میں کہتا ہوں کہ خدا ایک ہے شرک بری چیز ہے۔اگر تم شرک نہ چھوڑو گے تو تم پر عذاب آئے گا۔۔۔اس بات نے ان پر اثر نہ