خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 373

70 قوت اخلاق (فرموده ۶ اکتوبر ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں نے پچھلے جمعہ احباب کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ غیر اقوام کے لئے سب سے بڑی چیز جو صداقت کی طرف رہنمائی کا موجب ہوتی ہے وہ اخلاق فاضلہ ہیں۔ہماری عبادتیں، ہمارے ذکر اور درود ان کے نزدیک وہم سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے اور دلیل وہ ہوتی ہے جو دوسرے کی بھی مسلمہ ہو۔اگر عیسائی سے بحث کرو۔اور دلیل کے طور پر قرآن کریم کی آیت پر آیت پڑھتے جاؤ۔تو گو وہ عقل سے زیادہ یقینی اور مقدم ہے کیونکہ خدا کا کلام ہے۔مگر وہ اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔اس کو منوانے کے لئے وہی دلیل ہو سکتی ہے جو اس کے نزدیک بھی مسلم ہو۔اگر ہندو سے بحث کرتے وقت قرآن و حدیث کے حوالے دو گے تو گو وہ عقل پر مقدم ہیں۔اور اس سے زیادہ یقینی ہیں۔مگر اس پر ان حوالوں کا اثر نہیں ہو سکتا۔اگر اس پر قرآن و حدیث کے حوالہ جات کا اثر ہو سکتا ہے تو اسی صورت میں کہ پہلے تم اس پر ثابت کرو کہ قرآن کریم خدا تعالی کا کلام ہے۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں۔ورنہ یہ بات ثابت ہونے سے پہلے قرآن و حدیث کے حوالوں کو وہ وہم ہی سمجھے گا۔وہ عقل کو مانتا ہے۔لیکن قرآن کریم کو نہیں مانتا۔جس طرح عقلی دلائل کے مقابلہ میں قرآن و رسول کریم کا کلام اس کے لئے بے حقیقت ہوتا ہے۔اسی طرح اعمال میں سے وہ اعمال جو ہمارے شرعی اعمال ہیں ان کے لئے بے اثر اور لغو ہیں۔قرآن کریم کی محبت حدیث کی محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جذبات اگر کسی مسلمان میں ہیں تو ایک ہندو ایک عیسائی ایک سکھ ایک پارسی کے نزدیک ان کی کچھ بھی قدر نہیں۔لیکن ایک جذبات وہ ہیں جو ان کے دل میں بھی ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ رحم کریں۔ہمدردی کریں۔یہ جذبات ایک ہندو کے دل میں بھی ہیں۔ایک عیسائی، سکھ، پارسی کے دل میں بھی ہیں۔اس کے ساتھ اس کے دل میں یہ جذبہ بھی ہے کہ یہ جذبات اچھی چیز ہیں۔نہ صرف یہ کہ یہ جذبہ رحم صرف اہل