خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 18

10 5 مشیر کا فرض ہے کہ امانت دار ہو (فرموده ۱۱ فروری ۱۹۲۱ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ اور آیت شریفہ یا ایها الذین امنوا لا تخونوا الله والرسول وتخونوا اماناتكم وانتم تعلمون (الانفال ۲۸) کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آج میرا منشاء ایک اور ہی مضمون بیان کرنے کا تھا۔مگر ایک خط نے جو آج ہی ایک دوست کی اور طرف سے ملا ہے توجہ کو اور طرف پھرایا ہے۔اور میں اس کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔خوب اچھی طرح یاد رکھو کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کے بہت سے افراد میں کام کی اہلیت نہ پائی جائے۔جن قوموں کے اکثر افراد میں کام کرنے کی اہلیت نہ ہو۔وہ جلد تباہ ہو جاتی ہیں۔کیونکہ انسان فانی ہے۔ایک عرصہ میں کام کرنے والے افراد مرجاتے ہیں۔ان کے بعد جن کے ہاتھوں میں کام جاتا ہے وہ کام کے اہل نہیں ہوتے۔اس لئے ایسی جماعتیں بہت جلد تباہ ہو جاتی ہیں۔پس وہی جماعت قائم رہ سکتی ہے۔جس میں ایک کام کرنے والے کے بعد دوسرا کھڑا ہو۔دوسرے کے بعد تیرا۔اور تیسرے کے بعد چو تھا۔اور اسی طرح یہ سلسلہ چلتا جائے۔کام کی اہلیت اور قابلیت دو طرح پیدا ہوتی ہے۔اول عملی تجربہ سے دوسرے علمی طریق سے۔اگر عملی قابلیت کے ساتھ علم نہ ہو۔تو کوئی کامل نہیں ہو سکتا۔اگر علم کے ساتھ عمل نہ ہو تو بھی کوئی شخص قابل نہیں ہو سکتا۔مثلاً ایک شخص نے عملی طور پر سرجری کو پڑھا ہو اور ایک ذخیرہ کتب پڑھا ہو۔مگر عملی تجربہ اس کو نہ ہو۔اور وہ محض اپنے علم کی بنا پر چاہے کہ میں آپریشن کروں تو یقیناً شخص عالم ہونے کے باوجود کسی کی جان لے لے گا۔لیکن اگر علم کے ساتھ اس نے عمل بھی کیا ہے۔یعنی پہلے مردوں پر مشق کی ہے۔پھر ماہر ڈاکٹروں کو آپریشن کرتے دیکھا ہے۔اور ماہروں کے سامنے خود آپریشن کی مشق کی ہے۔تو اس کا علم اور عمل مفید اور کارگر ہوں گے۔تمام کاموں میں یہی ہوتا ہے کہ علم کے ساتھ تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص محض کتاب پڑھ کر طبیب بننا چاہیے۔تو محال ہے۔ضرورت ہے کہ طب کی کتب پڑھنے کے ساتھ لائق طبیب کے سامنے مریضوں کی تشخیص اور علاج کیا ہو۔تب کامل ہو گا۔ورنہ علم بغیر عمل کے ناقص رہے گا۔اور عمل