خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 19

14 بغیر علم کے مفید نہیں ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی علم اور عمل کے متعلق سناتے تھے کہ ایک طبیب تھا جو بہت بڑا عالم تھا۔اس نے طب کا علم خوب پڑھا تھا۔اس نے رنجیت سنگھ کا شہرہ سنا تو دلی سے اس کے دربار میں پہنچا کہ شاید ترقی حاصل ہو۔رنجیت سنگھ کا وزیر ایک مسلمان تھا۔اس نے اس سے ملاقات کی۔اور اس سے مہاراجہ سے ملنے کے لئے سفارش چاہی۔وزیر کو اندیشہ ہوا کہ اگر اس کا رسوخ ہو گا۔تو میں نہ کہیں گر جاؤں۔اور طبیب کی سفارش نہ کرنا بھی اس نے مروت کے خلاف سمجھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ سے اس نے سفارش کی اور کہا کہ حضور یہ بہت بڑے عالم ہیں انہوں نے فلاں کتاب پڑھی ہے۔فلاں کتاب پڑھی ہے۔اور اس کے علم کی بہت تعریف کی۔مہاراجہ نے پوچھا کہ یہ تو بتاؤ کہ انہوں نے علاج میں کیا کیا تجربے حاصل کئے ہیں؟ وزیر نے کہا کہ تجربہ بھی حضور کے طفیل ہو جائے گا۔رنجیت سنگھ دانا آدمی تھا۔سمجھ گیا کہ علم بغیر عمل کے کچھ نہیں۔اور کہا کہ تجربہ کے لئے کیا غریب رنجیت سنگھ ہی رہ گیا ہے۔بہتر ہے۔کہ حکیم صاحب کو انعام دے کر رخصت کر دیا جائے۔تو ایک لوگ عملی تجربہ کار ہوتے ہیں۔جن کو مختلف شعبوں میں کام کی عملی واقفیت ہو۔اور ایک عالم ہوتے ہیں کہ جہاں غلطی ہو۔ان سے مشورہ لیا جائے۔غلطیاں ہونگی۔مگر اس سے بھی قابلیت پیدا ہوگی۔جب تک ان دونوں باتوں سے کام نہ لیا جائے۔کچھ نہیں ہو سکتا۔اگر کسی جماعت میں کام کرنے والا پیدا نہ ہو۔تو آخر وہ کب تک رہیں گے۔وہ دو سال۔چار سال۔ہمیں حد سے حد سو سال میں مر جائیں گے۔تو ایسی جماعت دنیا میں اپنے وجود کو قائم نہیں رکھ سکتی۔زندہ جماعت کے لئے ضروری ہے۔کہ اس میں اس کے کام کو سنبھالنے والے پیدا ہوں۔اور کثرت سے ہوں۔افراد مرجاتے ہیں لیکن وہ جماعتیں جن کی یہ حالت ہو کہ ان میں تربیت یافتہ افراد پیدا ہوتے رہیں نہیں مرا کر تیں۔یہی روح ہے جو کسی جماعت میں مسلسل چلنی چاہئیے۔اس کے دو ذرائع ہیں۔ایک وہ ہوں جو علم میں کامل ہوں وہ علمی مشورہ دیں۔ہر دقیق مسئلہ اور مشکل معالمہ پر غور کریں۔اور استنباط کر کے بہتر رائے دیں۔ایک وہ ہوں۔جو عمل کریں۔اور کام کو خوبصورتی سے انجام دیں۔یاد رکھو کہ مشورہ کی یہی غرض نہیں ہوتی کہ جو مشورہ لیتا ہے وہ مشورہ کا محتاج ہے۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض باتیں اس کی سمجھ میں نہیں آتیں وہ دوسروں سے پوچھتا ہے۔لیکن اکثر یہ بھی غرض ہوتی ہے کہ جن سے مشورہ لیا جاتا ہے ان کو سکھانا منظور ہوتا ہے کہ ان میں قابلیت پیدا ہو۔پس ہمیشہ مشورہ کی غرض مشورہ لینے والے کی احتیاج نہیں ہوتی۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ