خطبات محمود (جلد 7) — Page 98
۹۸ (25 اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو (فرموده ۷ اکتوبر ۶۱۹۲۱ ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔ انسان کی ترقی اور اس کی کامیابی اور خدا کے حضور سرخرو ہونے کے لئے کچھ قواعد مقرر ہیں۔ ان کی نگہداشت کے بغیر نہ ترقی ہو سکتی ہے نہ انسان کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ خدا کے حضور سرخرو ہو سکتا ہے۔ بلکہ یہ سب باتیں نا ممکن ہو جاتی ہیں۔ جب تک اس رستہ کو اختیار نہ کیا جائے کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ خالی زور کسی جگہ کام نہیں آتا آج علوم کی ترقی میں جاہل سے جاہل انسان بھی جانتا ہے کہ زور تدبیر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بڑے بڑے پہلوانوں کو چنے کے برابر گولی ختم کر سکتی ہے۔ گاؤں کے گاؤں کا صفایا آنکھ سے نظر نہ آنے والے کیڑوں کے ذریعہ ڈاکٹر اور سائنس دان لوگ کر سکتے ہیں۔ یہ جنگ جو جرمن فرانس اور انگلستان وغیرہ ممالک کے درمیان ہوئی اس میں جانبین نے ایک دوسرے کے مقابلہ میں اس طریق کو اختیار کیا کہ کہیں تپ محرقہ کے جراثیم اور نہیں ہیضہ کے جراثیم سے اپنے نبی نوع کی جانیں لیں۔ یہ وہ ہتھیار تھے جو نظر نہ آتے تھے۔ کمر کس طرح ان سے ہزاروں آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ریل کا ایک انجن اس قدر وزن بھینچ کر لے جاتا ہے کہ پچاس ہاتھی بھی اتنے بوجھ کو جنبش نہیں دے سکتے۔ یہ سب تدبیر کے کھیل ہیں۔ غرض وہی کام جو جو زور سے نہیں ہو سکتا تدبیر سے احسن طور سے ہو سکتا ہے۔ اسی نکتہ کو نہ سمجھنے کے باعث لوگوں نے اسلامی عبادات کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔ اسلام نے پانچ وقت نماز فرض کی ہے مگر یہی نماز بعض اوقات میں پڑھنی ناجائز قرار دی ہے۔ روزے رکھنے حلال ہیں اور فرض ہیں مگر زیادہ سے زیادہ اگر کوئی نفلی روزے رکھنے چا ہے تو ایک دن چھوڑ کر رکھ سکتا ۔ نہیں رکھا جا سکتا۔ اور بعض ایام میں قطعا " حرام قرار دیا گیا ہے۔ اپنے اموال کا غربا میں تقسیم کرنا " ہے۔ ثواب کا موجب ٹھرایا بلکہ بعض اوقات فرض کیا ہے۔ مگر مرنے والے کو اپنے مال سے ایک ثلث