خطبات محمود (جلد 7) — Page 97
46 لیکن بہت لوگ ہیں جو طوطے کی طرح پڑھتے ہیں۔اور بار بار اقرار کرنے کے باوجود کہ ہم مسافر ہیں۔اپنے آپ کو مسافر نہیں سمجھتے حالانکہ یہاں کا آرام کوئی چیز نہیں دراصل آرام اور راحت وہ ہے جو انجام کار ملتا ہے۔جو شخص ایسا نہیں کرتا۔بلکہ اس دنیا کو مسافر خانہ کی بجائے اپنا گھر ہی سمجھتا ہے۔اور اصل گھر کی فکر نہیں کرتا نہ یہ سوچتا ہے کہ وہاں کیا لے جائے گا۔وہ خسران اور حرمان کے سوا کچھ نہیں پائے گا۔راستہ کا آرام اچھی چیز ہے مگر یہی اصل چیز نہیں۔مومن کو چاہیے کہ سورہ فاتحہ کو مد نظر رکھے۔وہ سیدھا راستہ بھی مانگے اور انعام یافتوں والا بھی ایسا نہ ہو کہ مغضوب علیہم اور خیال میں شامل ہو جائے۔وہ نہ گم کردہ راہ ہو نہ انعام ضائع وہ کرے۔حضرت مسیح موعود فرماتے تھے۔کہ آپ کے والد صاحب کا قاعدہ تھا کہ ایک موسم میں خاص مقدار میں غرباء میں غلہ اور نقدی تقسیم کرتے ایک شخص بٹالے کا بھی آیا کرتا تھا اس کو آپ نے ایک دفعہ چنے اور کچھ پیسے دئے۔وہ چنوں کا بڑا حصہ راستہ ہی میں ختم کر گیا۔حالانکہ جو کچھ اس کو ملا تھا وہ گھر کے لئے تھا۔یہ مت خیال کرد که چلو جس طرح یہاں غریبی مسکینی میں گزارہ ہو جاتا ہے وہاں بھی ایسا ہی کریں گے۔تنگی ترشی میں گزارہ کر لیں گے۔خدا تعالی کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں وہاں یا تو انعام یافتوں میں رہنا ہے یا شیطان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوتا ہے۔لوگوں نے اعراف بنا رکھا تھا لیکن حضرت مسیح موعود نے وہ بھی نہ رہنے دیا بلکہ بتا دیا کہ وہ درمیانی درجے کے لوگوں کے لئے نہیں بلکہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کے لوگوں کا مقام ہے اور جنت ہی کا اعلیٰ حصہ ہے۔پس وہاں روکھی سوکھی والوں کا گزارہ نہیں۔ایک انسان وہاں یا تو خدا کا مہمان ہو گا۔یا اس کو جیل میں رہنا ہو گا۔حیرت کا مقام ہے کہ ایک شخص پچاس دفعہ کہتا ہے کہ میں مسافر ہوں اور ایک دفعہ بھی اس پر غور نہیں کرتا۔کیا اس کی یہی مثال نہیں کہ وہ اپنے آپ کو جھوٹ موٹ کہتا ہے کہ میں نوکر ہوں اور وہ کوئی نوکر نہیں کیا اس کا انجام اچھا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر غور کرنے اور عمل کرنے کی توفیق دے ہم اپنے آپ کو مسافر اور آخرت کے لئے کچھ کما کر لے جائیں تا خدا کے غضب سے بچیں۔سمجھیں الفضل ۱۰ر اکتوبر ۱۹۲۱ء)۔۔۔