خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 99

۹۹ سے زیادہ دینے کی ممانعت کی ہے۔تو عبادات مقرر کی ہیں۔اور ان پر زور دیا ہے مگر انہی عبادتوں کے بجا لانے سے دوسرے وقت میں روک بھی دیا ہے۔لیکن اسلام کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا بعض نے رات کی عبادت کو ضروری بتایا ہے اور کہدیا کہ ساری رات الٹے لٹکے رہو۔یا کھڑے رہو۔بعض نے مال خدا کی راہ میں دینے کا حکم دیا اور کہدیا کہ سارے کا سارا دو۔روزے کا حکم دیا اور ساری عمر کے لئے دیا۔غرض اسلام نے عبادت کو ایک گر اور قاعدے کے ماتحت رکھا ہے۔تاکہ اس کا کوئی نتیجہ اور فائدہ مترتب ہو۔اس کی مثال ایسی ہی ہے۔کہ تم اگر ایک گز زمین میں دس من غلہ ڈھیر کر دو اور توقع یہ رکھو کہ اس سے بہت ساغلہ پیدا ہو گا۔تو یہ غلطی وگی بلکہ اس دس من کی بجائے ایک چھٹانک غلہ اتنی زمین میں ڈالا جائے تو وہ اس دس من سے زیادہ پھل دے گا۔کیونکہ یہ بھی قاعدہ ہے کہ ایک پیج جو زمین میں ڈالا جائے اس میں سے ہر ایک دانے میں کچھ فاصلہ ہونا چاہئیے۔گیہوں یا مکی یا باجرہ یا کوئی اور جنس من بھر زمین میں ڈال دی جائے اور اس قاعدے کو مد نظر نہ رکھا جائے تو بے وقوفی ہوگی۔من بھر وہ کام نہیں دے سکتا جو قاعدے کے ماتحت ڈالا ہوا ایک چھٹانک دے سکتا ہے۔بہت لوگ ہیں جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتے وہ خدا کو خود ساختہ اور ایسے رستوں سے ملنا چاہتے ہیں جن سے وہ نہیں ملتا۔خود قاعدے بناتے ہیں۔اور قدرتی اور خود خدا کے بتائے ہوئے قاعدوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔مگر ان سے کہاں خدا مل سکتا ہے۔اس طرح تو خواہ ساری عمر لٹکتے رہو۔خواہ اپنا سارا مال اپنے بنی نوع کی خاطر قربان کردو۔خواہ تم کتنا ہی خوف ظاہر کرو۔عبادت میں سختی اٹھاؤ۔اپنا مال خرچ کرنا۔خدا سے خوف ظاہر کرنا جب اس طریق پر ہو گا جس طریق پر خدا نے بتایا ہے تو اس کا کوئی مفید نتیجہ ہو گا۔زکوۃ دو۔مگر اس طرح دو جس طرح خدا اور رسول نے بتایا ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو سچے مذہب والے دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں کم عبادت کرتے ہیں۔غیر احمدی تم سے زیادہ نمازیں پڑھتے ہیں تم سے زیادہ مالی قربانیاں کرتے ہیں۔تم سے زیادہ حاجی ہیں۔تم سے زیادہ شب بیدار اور تسبیح خواں ہیں ان میں سے اکثروں کی تسبیح کو اگر بچھایا جائے تو اس سارے صحن میں پھیل جائے۔وہ ہزار ہزار دانے اور اس سے بھی زیادہ کی تسبیح پڑھتے ہیں۔مگر باوجود اس کے وہ خدا رسیدہ نہیں ہیں۔وہ راتوں کو کھڑے ہوتے ہیں۔اور ان کے پاؤں سوچ کر پھٹنے کے قریب ہو جاتے ہیں۔وہ روزے رکھتے ہیں بھوک سے ان کی کمریں کمزور ہو جاتی ہیں۔اور آنکھیں گڑھوں میں د تھنس جاتی ہیں۔باوجود اس کے ان میں سے بہت سے ابلیس سے کم نہیں ہوتے۔وہ کرتے ہیں اور بہت کچھ کرتے ہیں۔مگر جس قدر کرتے ہیں وہ خدا کے حکم اور رسول کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق نہیں کرتے دیکھو اگر تم قاعدے سے کام لو تو ایک دیا سلائی کو خشک پتوں یا باریک ٹہنیوں میں