خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 379

۳۷۹ پھر جب انسان نے غلوں کو کھانا شروع کیا۔گیہوں اور چاول کثرت سے کھانے میں آنے لگے تو گیہوں نے الگ اثر کیا اور چاول نے الگ اثر کیا۔اور چاول کی زیادتی سے بادی ہونے لگی اور لوگوں کے جگر خراب ہونے لگے یا کسی اور چیز کے کھانے سے پیٹ میں درد ہوا تو علاج کی طرف توجہ ہوئی چونکہ بعض بوٹیوں کے مفید اثرات بھی ان تجارب میں معلوم ہوئے ان کو ان بیماریوں کے دور کرنے کے لئے استعمال کیا جانے لگا اور علم طب پیدا ہو گیا۔اگر زبان کا مزا نہ ہوتا تو انسان محض پیٹ بھرنے سے غرض رکھتا۔لیکن پیٹ نہیں بتایا کرتا کہ فلاں چیز کھانی چاہئیے یا فلاں سے پر ہیز کرنا چاہیے یا فلاں چیز مزیدار ہے۔اور فلاں نہیں۔چونکہ زبان میں مزا رکھا گیا ہے اس لئے وہ مختلف مزوں کی چیزیں طلب کرتی ہے جس وجہ سے مختلف غذا ئیں نکلتی ہیں اور مختلف غذاؤں کے بداثرات کو دور کرنے کے لئے مختلف دوائیں بھی نکل آتی ہیں۔اسی طرح حساب کا علم بھی مختلف ضروریات کے پورا کرنے کے لئے نکل آیا مثلا کھانے پینے سے یہ مدد اس علم کو ملی کہ مرکب غذاؤں اور دواؤں کی آپس میں کیا نسبت ہو۔یا مختلف رنگوں کے پھولوں، پھلوں اور بیل بوٹوں اور مناظر سے آنکھوں کو فرحت ہوئی پھر خوش آوازوں سے کانوں نے لذت حاصل کی۔ان حواس خمسہ کے ذریعہ جس کے متعلق اب تحقیقات کے ذریعہ معلوم ہوا پانچ نہیں زیادہ ہیں، علوم نے ترقی کی غرض بعض حواس اور ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے اس قدر سامان اسی لئے دئے گئے ہیں کہ انسان ان خزائن کے دریافت کرنے کی طرف بھی توجہ دے جو اللہ تعالٰی نے اس دنیا میں مخفی رکھے ہیں۔مگر کیوں توجہ دے؟ یہ ایک حکمت ہے۔جس کا اس مضمون سے تعلق نہیں۔لیکن منشاء الہی ہے کہ اپنی قوتوں کو ادھر بھی انسان لگائے۔کھانے پینے ، ترقی کرنے کی خواہش، شہوات میاں بیوی کے تعلقات کی طاقت سردی گرمی کا احساس، سونے جاگنے کی خواہش یہ سب خواہشیں ایسی ہیں کہ ان سے کوئی انسان بچتا نہیں۔انسان میں ان خواہشات کے رکھنے سے خدا کا منشاء یہ ہے کہ انسان اپنا کچھ وقت ان چیزوں پر خرچ کرے۔ہاں یہ منشاء نہیں کہ بالکل ادھر ہی لگ جائے۔ایک شخص کے ہاں ایک مہمان آتا ہے وہ مہمان کے سامنے مختلف قسم کے کھانے رکھتا ہے۔پلاؤ گوشت، روٹی، اچار، مربہ وغیرہ میزبان کی خواہش ہوتی ہے کہ مہمان یہ سب کھانے کھائے۔لیکن اگر مہمان ایک ہی چیز مثلاً اچار ہی کھائے اور دوسری چیزوں کو ہاتھ نہ لگائے تو میزبان خوش نہیں ہو سکتا۔ہاں جو چیز میزبان مہمان کے لئے خصوصیت سے تیار کرتا ہے اس کے متعلق خواہش ہوتی ہے کہ مہمان اس کو زیادہ رغبت سے کھائے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی چاہتا ہے کہ اس نے اپنے بندے کے لئے جو چیز سب سے عمدہ تیار کی ہے بندہ اس کو زیادہ پسند کرے اور اس پر اپنا زیادہ وقت صرف کرے۔باقی چیزیں بھی جس قدر ہیں۔وہ بھی اس لئے ہیں کہ بندے ان سے حصہ لیں۔