خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 260

۲۶۰ ہے یا نہیں۔اس کے لئے بات کونسی رکھی یہ نہیں کہ فلاں ملک پر حملہ کردیا میری نوکری کر لو بلکہ یہ کہ جب کھانا کھانے بیٹھیں تو بادشاہ کی ماں سردار کی ماں سے کہے کہ فلاں برتن پکڑا دو۔گویا یہ تو اس بادشاہ کے خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اسے اپنی نوکری کرنے کے لئے کے یا کوئی اور بات منوائے بلکہ یہی بات قرار دی کہ جب اس کی ماں کھانا بانٹ رہی ہو تو سردار کی ماں سے کیے۔فلاں برتن پکڑا دو۔اور یہ معمولی بات ہے۔اور ایسی معمولی بات کہ افسر کو بھی ماتحت کہہ دیتا ہے لیکن بادشاہ کی ماں نے اس طرح کہا تو اس کے منہ سے اس لفظ کا نکلنا تھا کہ سردار کی ماں نے زور سے کہا انے لوگوں تمہارے سردار کی ماں کی ہتک ہو گئی اس وقت اس کا لڑکا پاس ہی بادشاہ کے پاس بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔اس نے اتنا بھی نہ پوچھا۔کہ کیا ہوا۔اور بادشاہ ہی کی تلوار لیکر اس کا سر اڑا دیا۔اس کے بعد باہر نکلا اور اپنے قبیلہ کے لوگوں کو کہا کہ ان کو لوٹ لوسا تو ان لوگوں میں اتنی آزادی تھی کہ کسی کی اطاعت کرنا اپنی ہتک سمجھتے تھے۔لیکن ان آزاد قبائل کا کیا حال ہوا۔انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی نہیں مانا کہ خیر خدا کے نبی ہیں۔اس لئے آپ کی اطاعت کر لیں۔بلکہ آپ کے بعد ابو بکر کو جو گو خاندانی لحاظ سے معزز تھے لیکن ان خاندانوں میں سے نہ تھے جو بادشاہ ہونے کے قابل سمجھے جاتے تھے۔بادشاہ مان لیا۔حضرت ابو بکر کے والد بہت آخر میں جاکر مسلمان ہوئے۔یعنی فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے۔پھر بھی کوئی خاص اثر اسلام کا ان پر نہ تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کی اطلاع انہیں ملی تو گویا اصل ایمان حاصل ہونے کا ان کے لئے وہی موقع تھا۔ان کو اطلاع ملی۔کہ ابوبکر خلیفہ ہو گیا ہے۔انہوں نے پوچھا کون ابوبکر کہا گیا تمہارا بیٹا۔کہنے لگے عرب اس کی اطاعت نہیں کر سکتے وہ کس طرح خلیفہ ہو سکتا ہے۔کہا گیا نہیں وہی ہو گیا ہے پوچھا کیا عربوں نے اسے مان لیا ہے۔کہا گیا ہاں مان لیا ہے۔کہنے لگے۔اگر عربوں نے اسے مان لیا ہے تو اشهد ان لا اله الا الله وأشهد ان محمد عبده ورسولہ خدا ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے بچے رسول ہیں۔۲۔کہ ابو قحافہ (یہ ان کا نام تھا) کے بیٹے کو عربوں نے خلیفہ مان لیا۔اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قوت قدسی ایسی زبردست ہے کہ عرب کے لوگ جو کسی کی اطاعت نہیں کر سکتے وہ اپنے سے ادنی خاندان کے انسان کی اطاعت کرلیں تو وہ ضرور سچا نبی ہے۔تو خدا تعالی نے بادشاہت دی کن کو۔اور کن پر۔ان کو جنہیں بادشاہ بن سکنے کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔اور ان پر جو سینکڑوں سال سے آزاد چلے آتے تھے۔اور جن پر حکومت کرنے کے لئے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں اور فاتحوں کو حوصلہ نہ ہوا۔ان پر حکومت دی۔اور بلا کسی فوج بغیر کسی سامان کے اس غریب آدمی ابو بکر کو دی جو گٹھڑی اٹھا کر چل پڑے تھے۔کہ کپڑا بیچ کر گزارہ کریں۔اور جب انہیں کہا گیا کہ اگر