خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 261

آپ اس طرح کریں گے تو خلافت کا کام کون کرے گا۔تب رکے۔تو مال کے لحاظ سے ان کی یہ حالت تھی۔اور خاندانی لحاظ سے یہ کہ گو معزز خاندان کے تھے۔لیکن ان کا خاندان اتنا معزز نہ تھا۔کہ دوسرے خاندانوں پر حکومت کر سکتا۔پھر نہ ان کے پاس کوئی طاقت اور قوت تھی۔اگر کچھ تھا تو یہی تھا کہ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کیا تھا کہ اب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادموں کو بادشاہت دی جائے اور خدا نے یہ فیصلہ کر لیا تو اس میں کوئی دیر نہ لگی۔اور نہ کوئی چیز روک بن سکی۔پھر جب خدا تعالی گراتا ہے کہ تو اس طرح گراتا ہے کوئی روک نہیں سکتا۔ایک زمانہ تھا کہ اگر ایک مسلمان لڑکا عیسائیوں کی حکومت میں چلا جاتا تو گورنر تک اس کو ہاتھ لگاتا ڈرتا تھا۔اور کہتا تھا۔اسے لڑکا نہ سمجھو سارے مسلمانوں کی طاقت اس کے پیچھے موجود ہے۔پھر مسلمان وہ تھے۔کہ چین کا ایک بادشاہ ۳ دربار میں بیٹھا تھا۔کہ ایک شخص اس کے پاس پہنچا۔اور کہا میں آپ کے لئے ایک پیغام لایا ہوں۔اور وہ یہ کہ میں ایک رستہ سے گذر رہا تھا کہ ایک گاؤں سے ایک عورت کی آواز آئی۔جس نے تیرا نام لیا۔اور کہا عیسائیوں سے ملک کو کیوں نہیں بچاتا یہ سن کو وہ تخت سے اتر آیا اور لبیک کہتا ہوا چلا اور فرانس کی حد تک عیسائیوں کو مارتا چلا گیا ہم تو کسی کی طاقت نہ تھی کہ کسی مسلمان عورت یا بچہ کو دکھ دے۔مگر آج کہاں گئی وہ طاقت کہاں گیا وہ رعب کہاں گئی وہ حکومت کہاں گیا وہ مال مسلمانوں کی آج یہ حالت ہے کہ مسلمان بادشاہوں کے پاس بھی اتنا مال نہیں جتنا اس وقت کے غریب مسلمانوں کے پاس ہو تا تھا۔صحابہ خدا کی راہ میں بہت مال خرچ کرتے تھے۔تاہم جب ایک صحابی فوت ہوئے تو اڑھائی کروڑو روپیہ چھوڑ گئے۔اور یہ کوئی بڑے مالدار نہ سمجھے جاتے تھے۔تو وہ ایسا زمانہ تھا کہ کسی کی طاقت نہیں تھی کہ مسلمانوں پر حملہ کرتا مسلمانوں کا ایسا رعب تھا کہ حکومتیں لرزتی اور بادشاہتیں کانپتی تھیں۔اس وقت ایک مسلمان فقیر زیادہ محفوظ تھا آج کل کے مسلمان بادشاہ سے۔مگر وہ حکومتیں اور شوکتیں کہاں گئیں۔نہ وہ عزتیں رہیں نہ وہ مراتب رہے۔بلکہ مسلمان سب سے زیادہ حقیر اور ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔ہندو جن کی کوئی سلطنت نہیں۔اور جو ہندوستان سے باہر نہیں۔ان سے تو صلح کی خواہش کی جاتی ہے۔مگر مسلمان جو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ان کا نام لینے کا بھی کوئی خواہاں ہیں۔یہ خدا کی گرفت ہے کہ اس نے مسلمانوں کو ایسا ذلیل کر دیا۔یہ قادر خدا جو اس طرح بادشاہتوں کو بناتا اور توڑتا ہے۔یہ خدا افراد پر جو بادشاہتوں کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔اس قدر رحم کرتا ہے کہ خود جھک کر انسان کی طرف آتا ہے۔اور کہتا ہے۔اپنا ہاتھ مجھے پکڑا تا میں تجھے عرش پر لے جاؤں۔لیکن کس قدر رنج اور افسوس کی بات ہے کہ انسان جو اپنے جیسے بندوں کے آگے ہاتھ جوڑتا ہے۔خدا جو آپ اترتا ہے۔اور اپنے بندے