خطبات محمود (جلد 7) — Page 240
۲۴۰۔اپنے فضل سے مجھے اتنی طاقت دی کہ میں نے اسے برداشت کر لیا۔تو اس کا ایمان اور پختہ ہو جاتا ہے۔اور وہ اس سے بڑا ابتلا برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔جیسے جوں جوں انسان کو دلیری ہوتی جاتی ہے آگے بڑھتا جاتا ہے۔اسی طرح اس کی حالت ہوتی ہے۔وہ جوں جوں دلیر ہوتا جاتا ہے۔آگے بڑھتا جاتا ہے اس طرح ایک تو اسے اپنے ایمان کی پختگی کا پتہ لگتا جاتا ہے دوسرے اسے آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔اور وہ ترقی کرتا جاتا ہے۔تو ابتلاء کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ انسان کو اپنی حالت کا پتہ لگتا ہے کہ خدا کی راہ میں کس قدر تکلیف اٹھا سکتا ہے۔اور تکلیف کے وقت کس قدر مضبوط رہ سکتا ہے۔دوسرے یہ کہ آگے قدم بڑھانے کی جرات پیدا ہوتی ہے۔ابتلاؤں کا آنا ایسی ضروری بات ہے کہ نبیوں کی کوئی جماعت ایسی نہیں ہوئی کہ جس پر ابتلا نہ آئے ہوں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ام حسبتم ان تدخلوا الجنة ولما ياتكم مثل الذين خلوا من قبلهم (البقرة : ۲۱۵) کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ نعمت اور وہ انعام جس کی وسعت کا اندازہ نہیں لگا سکتے انہیں یونسی مل جائے گا۔اور ان پر وہ حالت نہ گزرے گی جو پہلوں پر گزرتی رہی۔وہ حالت ضرور گزرے گی۔اس لئے یہ مت خیال کرو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔جب تک ان حالتوں میں سے نہ گزرو گے جن میں سے پہلے گزرے۔انہیں کیا ہوا تھا۔اور ان کی حالت کیسی ہوئی۔ان کی حالت ایسی ہو گئی کہ مستهم الباساء والضراء وزلزلوا حتى يقول الرسول والذين امنوا معه متى نصر اللہ ان کو بڑی بڑی تکلیف جسمانی بھی اور مالی بھی۔انہیں اپنی جائیدادیں چھوڑنی پڑیں۔رشتہ داروں کو ترک کرنا پڑا۔فاقے کرنے پڑے۔ماریں انہوں نے کھائیں۔قتل وہ ہوئے غرضیکہ کئی کئی رنگ میں ہلائے گئے۔جس طرح زلزلہ آتا ہے تو عمارت کبھی دائیں کرنے لگتی ہے۔کبھی بائیں۔اسی طرح دیکھنے والے ان کے متعلق کہتے تھے کہ یہ اب گرے۔حتی کہ ان کی تکالیف بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئیں کہ دشمن نے خیال کیا کہ اب یہ گر ہی گئے۔اس وقت اللہ کے رسول اور مومنوں نے دعا کرنی شروع کی کہ متی نصر اللہ اے خدا ابتلا اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ مدد آجائے مٹی نصر اللہ کے لفظی معنی یہی ہیں کہ کب مدد آئے گی اور لوگ کہتے ہیں کہ ان کو خدا کی مدد کے متعلق شک پیدا ہو گیا تھا کہ شاید آئے۔نہ آئے اس لئے انہوں نے کہا کب مدد آئے گی۔مگر یہ صحیح نہیں ہے۔سوال التجا کا رنگ بھی رکھتا ہے۔انسان کسی سے پوچھتا ہے کہ یہ بات آپ کب کریں گے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ نہیں کریں گے بلکہ یہ کہ کر دیں۔اسی طرح مجسٹریٹ سے جب پوچھا جاتا ہے کہ میری باری کب آئے گی تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ