خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 241

۲۴۱ کبھی نہیں آئے گی۔بلکہ یہ کہ آجائے۔تو مشی نصر اللہ انہوں نے دعائیں کرنی شروع کر دیں کہ الہی ابتلاء بڑھ گئے ہیں اب مدد آجائے۔اس کے جواب میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے الا ان نصر الله قريب خدا کی مدد قریب ہی ہوتی ہے۔ہر ابتلاء کے ساتھ مدد آتی ہے۔جب ابتلاء تمہاری ترقیات کے لئے آئیں۔تو پھر تمہیں تباہ ہونے کا ڈر نہیں ہونا چاہئیے۔اگر تمہارے نفسوں میں خرابی ہے اور جانتے ہو کہ خدا تمہیں ہلاک کرنا چاہتا ہے تو مدد نہیں آئے گی۔لیکن اگر تمہارے نفسوں میں خرابی نہیں۔تمہارا ایمان مضبوط ہے۔تم تقویٰ کی راہ پر قدم مار رہے ہو۔وساوس پر تمہیں قابو حاصل ہے تو ابتلاء تمہارے لئے خوف و خطرہ کا باعث نہیں ہو سکتے۔مومن کو کبھی ڈر نہیں ہوتا۔اس پر جب ابتلا آتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اس ابتلاء کے ساتھ ہی خدا کی مدد بھی آرہی ہے۔مثنوی رومی والے نے اسی مضمون کو اس طرح بیان کیا ہے۔ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است پس ہر ابتلا جو آتا ہے اس کے ساتھ ساتھ خزانہ انعامات کا مخفی ہوتا ہے۔اس لئے اصل خطرہ کی بات ابتلا نہیں ہوتا۔کیونکہ ابتلا کے تو یہ معنی ہوتے ہیں کہ اور ترقی خدا دے گا۔ڈر اور خوف کی بات اپنے نفس کی حالت ہوتی ہے۔اس کو ٹولنا اور دیکھنا چاہیے کہ آیا اس میں تو کوئی ایسی بات پیدا نہیں ہو گئی جو تباہی کا باعث بن جائے اگر اس میں وساوس نہیں پیدا ہوئے۔اگر ایمان مضبوط ہے اور دل شکر اور امتنان کے جذبات سے پر ہے تو خوش ہونا چاہیے کیونکہ ایسی حالت میں ابتلا ڈر کا باعث نہیں بلکہ خوش خبری ہے۔لیکن اگر ابتلا آنے پر وساوس پیدا ہو جاتے ہیں۔ایمان میں کمزوری معلوم ہوتی ہے۔تو سمجھ لو کہ یہ ابتلاء تمہاری ترقی کا باعث نہیں بلکہ ہلاکت کا باعث ہو گا۔پس ابتلاء کے وقت ابتلاء کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اپنے نفس کو دیکھنا چاہئیے اگر تمہارا نفس مطمئن ہے۔اگر اس میں کوئی نقص اور کمزوری نہیں پیدا ہوئی تو خوش ہو کہ تمہاری ترقی کا وقت آگیا۔اور تمہارا قدم آگے بڑھنے لگا ہے۔لیکن اگر نفس میں خرابی ہے۔ایمان میں کمزوری ہے۔اور دل میں وساوس ہیں تو سمجھ لو کہ تباہی آگئی ہے۔ہماری جماعت کے لئے ابتلاء آنے ضروری ہیں اور آئے ہیں۔لیکن پہلی جماعتوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔صحابہ کرام کو ایک دم کسی قدر ابتلاء آئے۔ان کا تو عشر عشیر بھی نہیں۔صحابہ پر یک دم سب ابتلاء آئے۔مگر ہمارے لئے ایسا نہیں ہوا۔بلکہ سہار سمار کر ہم پر آرہے ہیں۔ایک ابتلاء کے برداشت کرنے کی جب طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔تب دوسرا آتا ہے ہمارے ابتلاؤں کی