خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 185

1A0 پس بعض دفعہ مہمان کے سامنے دینا پڑتا ہے۔لیکن وہ دینا ذلت نہیں۔کیونکہ نیچا اور اونچا ہونا نسبتی امر ہے دیکھو چھت ہمارے سر پر ہے۔اور اونچی ہے۔مگر ایک چیونٹی جو چھت پر چل رہی ہو۔اس کے لئے زمین اونچی ہے۔اور چھت نیچی۔مقابلہ کرنا جرأت کا کام ہے۔لیکن ماں باپ سے مقابلہ بری بات ہے۔اور ذلت ہے۔دشمن کے مقابلہ میں بعض اوقات اڑنا عزت کی بات ہے۔تو ایک تو یہ ہدایت ہے کہ مہمانوں کے ساتھ نرمی کا سلوک ہونا چاہیے۔علاوہ ہمارے بھائیوں کے سینکڑوں غیر احمدی ہوتے ہیں۔تم ہزار تقریر کرو۔اگر تمہارا سلوک سخت ہو تو وہ تمہاری تقریروں پر یہی کہیں گے کہ یہ مکار لوگ ہیں۔اوپر سے کچھ ہیں اور اندر سے کچھ۔تمہاری میٹھی باتوں کو وہ برے سلوک سے کڑوی سمجھیں گے۔پس مہمان سے اچھا سلوک کیا بلحاظ خدا کا قرب حاصل کرنے کے اور کیا بلحاظ اس کے کہ سینکڑوں غیر احمدیوں کو جو ہمارے جلسہ پر آتے ہیں۔اس کی وجہ سے ہمارے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔اگر سلوک اچھا ہو تو وہ لوگ ہماری دلیلوں کے محتاج نہ ہوں گے۔اور حضرت اقدس کی صداقت کو ثابت شدہ حقیقت سمجھیں گے۔دوسری نصیحت یہ ہے کہ ہزاروں قسم کے خطرات ہوتے ہیں۔کئی لوگ جوش میں بیماروں کو چھوڑ کر آتے ہیں۔کئی حفاظت صحت کا خیال نہیں کرتے۔اور بھی کئی قسم کے ابتلاء ہوتے ہیں۔جہاں انعام ہوتے ہیں۔وہاں ابتلاء بھی ہوتے ہیں۔ممکن ہے رستہ میں تکلیف ہو یا یہاں مہمان داری میں بوجہ انہوہ اور کثرت کے تکلیف ہو۔کیونکہ جیسے ایک آدھ آدمی کی خدمت ہو سکتی ہے ویسی اتنے احباب کی نہیں ہو سکتی۔اس لئے ممکن ہے جسمانی یا روحانی رنگ میں صحت روحانی یا جسمانی کو تکلیفات ہوں۔اس لئے میں احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ مخلصانہ طور پر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انعامات سے متمتع کرے۔اور نقصانات کے پاس جانے سے بھی بچائے۔آمین۔الفضل ۲۶ جنوری ۱۹۲۲ء) بخاری باب بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم