خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 184

۱۸۴ کا اندازہ نہ تھا۔پھر بھی حضرت خدیجہ کا ان چند کو لینا جن میں اکرام ضیف بھی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ یہ ان باتوں میں سے ہے کہ جن کا آپ کو بہت خیال رہتا تھا۔اس بات کو اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کا محبوب اور مقرب بنانے میں مہمان نوازی بھی دخل رکھتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو فیضان اترے۔وہ پہلی زندگی کا نتیجہ تھے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ظلما " وحی نہیں اتاری گئی۔کہ خدا نے یونسی بغیر کسی وجہ کے اپنی وحی سے آپ کو عزت بخشی۔بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آئینہ ایسا تھا۔کہ اس میں خدا کا چہرہ نظر آتا تھا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس درجہ پر پہنچانے والی بات مہمان نوازی بھی تھی۔گویا دنیا پر جو یہ احسان ختم نبوت کا ہوا۔اس میں ایک ہاتھ مہمان نوازی کا بھی ہے۔اس لئے قادیان والوں کو یاد رکھنا چاہیے۔کہ یہاں بھی مہمان آنے والے ہیں۔اس لئے ان کا فرض ہے۔کہ وہ ان کی خدمت بجالائیں۔شہور ہے کہ اگلے زمانہ کے لوگ مہمانوں کو ڈھونڈا کرتے تھے۔مگر یہاں خدا تعالی مہمانوں کو خود لاتا ہے۔بعض لوگ مہمان کو بوجھ سمجھتے ہیں۔مگر ان کو غور کرنا چاہئیے۔کہ کیا وجہ ہے۔کہ مهمان حضرت اقدس مسیح موعود کے پاس آتے تھے۔کیوں محمد حسین بٹالوی اور ثناء اللہ یا ابراہیم کے پاس نہیں جاتے تھے۔کیا وہ روٹی نہیں دے سکتے تھے۔میرے نزدیک شاید دنیا میں کوئی ایسا شخص نہ ہو گا کہ جب اس کے گھر میں مہمان آئے۔اور وہ شام کے وقت اس کو روٹی نہ دے۔اور اس کو گھر سے نکال دے پس یہ خدا کا فضل ہے کہ کسی کے گھر مہمان آئے۔مہمان چٹی نہیں بلکہ احسان الہی ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ جب کسی پر فضل کرتا ہے تو اس کے گھر مہمان لاتا ہے۔کیونکہ گویا لوگوں نے محسوس کر لیا ہے۔کہ وہ اس قابل ہے کہ اس کے پاس جائیں۔اور اس سے کچھ حاصل کریں۔اور وہ زمین پر خدا کی ربوبیت کا مظہر ہوتا ہے۔ڈاکوؤں اور چوروں کے پاس شریف لوگ مہمان نہیں جایا کرتے۔حالانکہ اگر کوئی ڈاکو کے پاس جائے۔تو وہ بھی روٹی دے گا۔پس سوال روٹی دینے کا نہیں۔بلکہ یہ ہے کہ کوئی اس کے پاس سے کھا بھی سکتا ہے کہ نہیں۔پس مہمانوں کو کسی کے گھر لانا خدا کے فضل ہے اس لئے اس کی قدر کرنی چاہئیے۔اس کو ضائع نہیں کرنا چاہئیے۔میں نے بتایا ہے کہ مہمان نوازی کے اصول میں یہ بھی ہے۔کہ میزبان دیتا ہے۔بعض دفعہ نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔لیکن یہ نقصان مضر نہیں۔لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔جب باہر جائیں۔تو وہاں ملتے ہیں۔اور باہر جہاں ٹھرتے ہیں۔وہ بھی ہمارے ہی گھر ہوتے ہیں۔کیونکہ ہماری جماعت کے ہوتے ہیں یا کرائے کے مکان پر ٹھرتے ہیں۔تو وہ بھی اپنے ہی مکان ہوتے ہیں۔تو جب وہ لوگ آتے ہیں تو بہت دفعہ سختی اور سخت کلامی بھی کرتے ہیں۔مگر جب وہ جاتے ہیں۔تو وہ دل میں محسوس کرتے ہیں۔کہ یہ لوگ کس قسم کے ہوتے ہیں۔