خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 158

10^ دیکھو نمونیہ یا محرقہ کی بیماری ہے۔محرقہ پہلے تھوڑا ہوتا ہے مگر جس کو ہو گا ڈاکٹر سے دیکھ کر کانر جائے گا۔کہ نہ معلوم اس کا کیا حال ہو گا۔لیکن جب محرقہ انتہا کو پہنچنے کے بعد کم ہو جاتا ہے۔تو وہی ڈاکٹر جو پہلے دن 49 درجہ پر خطرہ محسوس کر رہا تھا۔وہی اب ۱۲ درجہ پر خوش ہو گا۔اس پر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس دن تو وہ ۹۹ درجہ پر گھبراتا تھا مگر آج پندرہ دن کے بعد ۴۲ درجہ پر خوش ہو رہا ہے تو بیوقوف ہو گا۔کیونکہ اس دن وہ 49 درجہ میں ترقی کی روح دیکھتا تھا اس لئے گھبراتا تھا۔اور اب ۲ درجہ میں تنزل کے آثار دیکھتا ہے۔اس لئے خوش ہے۔پس جب قدم آگے کو بڑھ رہا ہو اور دیکھے کہ قرب الی اللہ کی طرف جا رہا ہے۔تو کمزوریاں خواہ کیسی ہی ہوں۔ان کی پرواہ نہ کرے لیکن اگر دیکھے کہ وہ کوئی گناہ نہیں کرتا۔مگر خدا کے قرب کی طرف اس کا قدم نہیں جا رہا۔اس کے دل میں قرب الی اللہ کے لئے کوئی تڑپ نہیں تو وہ سمجھ لے کہ اس کی محرقہ بخار چڑھنے کی حالت ہے۔جو سخت خطرناک ہے۔پس تم اپنے ہر کام ہر فعل اور ہر بات میں اس اصل کو مد نظر رکھو۔رات دن تمہارے دل میں ایک ہی خواہش ہو کہ تم دنیا میں رہ کر خدا سے جا ملو۔دنیا کے علوم اور دنیا کی ترقیات تمہیں اپنی طرف نہ کھینچیں۔میں حیران رہ جاتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ بڑے بڑے عالم ہوتے ہیں۔مگر ان کو دنیا اپنی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے۔لالچ مال میں ہی نہیں ہوتا۔بلکہ علم میں بھی ہوتا ہے۔اور مسلمانوں کی تباہی کا باعث یہ علم کا لالچ بھی ہوا ہے انہیں علم کلام کی حرص پیدا ہوئی۔دوسروں کو فلسفہ میں باتیں کرتے دیکھ کر علم کلام بنایا۔اور اسلام کا ستیا ناس کر دیا کیونکہ انہوں نے پیشاب کو دودھ میں ملا دیا۔بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی طرف کھینچنے والی جو چیزیں ہیں۔ان کی طرف جب متوجہ ہو جاتا ہے۔تو اصل مقصد اور مدعا کے پانے سے رہ جاتا ہے۔لیکن جب اس میں یہ روح پیدا ہو جائے کہ ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرے۔تو پھر خواہ کتنی روکیں اس کے راستہ میں آئیں۔ان سے نکل جائے گا۔اور اسے کوئی نقصان نہ ہوگا۔پس یہ خواہش اپنے اندر پیدا کرو۔کہ خدا تعالیٰ کو پانا ہے اور اس کا قرب حاصل کرنا ہے۔دنیا کے مال دنیا کے فوائد دنیا کے منافع تمہاری نظر میں کچھ حقیقت نہ رکھتے ہوں۔اگر یہ صورت ہو۔تو خواہ تم میں لاکھ کمزوری ہو کوئی خطرہ نہیں رہتا۔اگر سارے نہیں تو تم میں سے ایک جماعت ضرور منزل مقصود پر پہنچ جائے گی۔لیکن اگر یہ نہیں تو پھر کچھ نہیں۔خواہ تم کیسے دعوے کرنے والے اور کیسی باتیں بنانے والے ہو۔کیا مسلمانوں میں مسیح موعود سے پہلے ایسے لوگ نہیں تھے ؟ انہوں نے کیا بنا لیا اور وہ کیا کر سکے؟