خطبات محمود (جلد 7) — Page 157
۱۵۷ ب سب گناہوں سے بچ جائیں گے اور ساری کمزوریاں دور ہو جائیں گی تب ہم خدا کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔یہ شیطان کے دھوکے اور وسوسے ہیں۔کوئی گناہ اور کوئی کمزوری خدا کے قرب سے نہیں روک سکتی۔گناہ اور کمزوریاں چلتے چلتے اس طرح جھڑتی جاتی ہیں جس طرح ایک آدمی چلتا جاتا ہے اور اس کی جوتی سے کانٹے جھڑتے جاتے ہیں جس طرح مضبوط کپڑے کا کوٹ پہن کر کانٹوں میں سے گذرنے والا جب کسی کانٹے سے انکتا ہے تو ٹھرتا نہیں۔بلکہ جھٹکا دیکر چھڑا لیتا ہے۔اور آگے روانہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح تمہارے کاندھوں پر بھی دین کا کوٹ ہے۔اور تم اس قسم کی رکاوٹوں سے ٹھرو نہیں بلکہ انہیں پیچھے چھوڑ کر آگے گذرتے جاؤ۔یہ چیزیں تمہارے راستہ میں روک نہ ہوں۔اور تم اس فکر میں مت پڑو کہ ان کو ہٹا لیں تو پھر آگے بڑھیں گے۔اگر تم اس کے ہٹانے میں لگے رہو گے تو اسی میں رہ جاؤ گے۔دیکھا گیا ہے۔ایک کانٹا لگنے پر اگر اسے ٹھر کر ہٹانے لگیں تو دوسرا لگ جاتا ہے۔لیکن اگر بغیر ٹھرے جھٹکا دے دیا جائے تو آسانی سے چھٹکارا ہو جاتا ہے۔پس ان روکوں کی فکر میں مت رہو۔یہ خود گرتی اور ہمتی جائیں گی۔تمہارا کام یہ ہے کہ قرب الی اللہ کے لئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے جاؤ۔نمازوں میں روزوں میں۔ایک دوسرے سے سلوک میں، معاملہ کرنے کرانے میں، قرضہ لینے اور دینے میں بات چیت میں افسر یا ماتحت ہونے کی حالت میں، بیوی بچوں کے معالمہ میں غرضیکہ ہر بات میں یہی غرض تمہارے مد نظر ہونی چاہیے۔کہ قرب الی اللہ حاصل ہو۔اگر تم سے کوئی غلطی ہوتی ہے۔کوئی کمزوری سرزد ہوتی ہے۔کوئی نقص واقع ہوتا ہے تو یہ نہیں کہ اس مقصد کو چھوڑ دو۔بلکہ اور زیادہ کوشش کرو۔جس طرح ایک لکھنے والا پہلے خراب لکھتا ہے۔لیکن بار بار لکھنے سے اچھا لکھنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح اگر تم بھی مستقل رہو گے۔تو سب نقص دور ہو جائیں گے۔پس تم اپنی کسی کمزوری کی طرف مت دیکھو۔بہت لمبے رستہ تک کمزوریاں ساتھ جاتی ہیں۔ان سے ڈرنا نہیں چاہئیے۔اور ہاتھ آگے ہی آگے بڑھانا چاہئیے۔اگر کسی بات میں کمزوری ہو تو اسے پھر کرو۔پھر کرو۔پھر کرد حتی کہ تمہیں خوب مشق ہو جائے۔اور جب مشق ہو جائے گی۔تو اس کے کرنے میں کوئی روک نہ پیش آئے گی لیکن اگر تم یہ کہو کہ کمزوری دور کر کے پھر اسے کرنا شروع کریں گے۔تو پھر نہیں کر سکو گے۔اصل مقصد کو تمہیں مد نظر رکھنا چاہئیے۔کانٹے مد نظر نہیں ہونا چاہئیں۔ان کو نکالنے نہ بیٹھ جاؤ۔بلکہ ان کو دور کرو۔جس طرح راستہ چلتا ہوا مسافر جھٹکا دیکر اپنا دامن چھڑا لیتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے کی کوشش کرو۔کہ جہاں پہنچ کر انسان ابتلاؤں سے بچ جاتا ہے۔اور جہاں یہ خطرہ نہیں رہتا کہ وہ غلط راستہ پر ہے۔اعمال میں کمزوری ہو تو ہو۔مگر یہ ایسی حالت ہوگی جیسے ایک بیمار اچھا تو ہو گیا۔مگر کمزوری کی وجہ سے اس کا قدم صحیح طور پر نہ پڑتا ہو۔