خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 141

۱۴۱ ہٹائے گئے اور بڑی تنخواہوں والوں کی تنخواہیں کم کی گئیں۔اب بجائے اس کے کہ وہ لوگ جنہوں نے یہ قبول کیا کہ ان کی تنخواہیں ۲۰ فیصد اور ۱۵ فیصد کاٹ لی جائیں دوسرے انہیں شکر اور امتنان کی نظر سے دیکھتے کہ انہوں نے خوشی سے دین کے لئے قربانی دی ہے۔یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ تھوڑی تنخواہ والوں کو تو علیحدہ کر دیا گیا ہے۔اور بڑی تنخواہ والوں کو رکھ لیا گیا ہے۔جن لوگوں کے دل میں یہ خیال آیا ہے۔میں ان کو بتانا چاہتا ہوں۔کہ ان کا یہ خیال کیسا پاگلانہ ہے۔فرض کرلو۔ایک ایسی گارڈ ہو جس میں سو سپاہی اور ایک افسر ہو۔ان کے متعلق فیصلہ کیا جائے۔کہ کچھ سپاہی کم کر دئے جائیں، اس پر کوئی کہے۔یہ تو بڑا ظلم کیا گیا ہے۔کہ تھوڑی تھوڑی تنخواہ والے دس سپاہی علیحدہ کر دئے گئے ہیں۔اور ایک افسر پانچ سو تنخواہ لینے والا علیحدہ نہ کیا تو یہ کیسی جہالت کی بات ہوگی۔کیونکہ اگر افسر علیحدہ کر دیا جائے تو سپاہی لڑیں گے کس طرح؟ اسی بات کو مد نظر رکھ کر دیکھ لو۔مثلاً دفتر امور عامہ ہے۔جس میں دو کارکن اور ایک ان کا افسر ہے۔اب اگر افسر ایک کارکن کا کام بھی اپنے ذمہ لے لے۔تو ایک کارکن کو ہٹایا جا سکتا ہے۔لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا۔کہ افسر کو ہٹا دیا جائے۔وہ دونوں کام کر لیں گے۔اس طرح کام نہیں چلے گا۔یا مثلاً زمیندار ایک نوکر رکھے جو ہل چلائے۔اور چار بیل رکھے (چونکہ زمینداروں کو بھی سلسلہ کی باتوں سے تعلق ہے۔اس لئے ان کے گھر کی مثال پیش کرتا ہوں۔تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ اعتراض کرنے والے کیسے جاہل ہیں) نوکر کی حیثیت افسر کی سمجھ لو۔اور بیلوں کے ماتحت کام کرنے والوں کی۔اس پر ایسے حالات پیدا ہو جائیں۔کہ زمیندار اخراجات کی تنگی کی وجہ سے ان کا خرچ نہ برداشت کر سکے۔اب وہ ایک یا دو بیلوں کو ہٹا لے گا۔یا کامے (ملازم) کو اگر کامے کو ہٹائے گا تو کیا بیل آپ ہی آپ ہل چلائیں گے۔وہ ایک دو بلکہ ضرورت مجبور کرے گی۔تو تین بیلوں کو بھی ہٹا دے گا۔لیکن ایک کا ماں ضرور رکھے گا۔کیونکہ چار بیل بھی اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔تو اس سے زیادہ پاگلانہ اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔کہ افسروں کو کیوں نہیں ہٹایا گیا۔اور ماتحت کام کرنے والوں کو ہٹا دیا گیا۔اور یہ محض اس لئے کہا گیا۔کہ ان کے قلب ایسے ہو گئے ہیں کہ وہ محض اعتراض کرنے کے لئے اعتراض کرتے ہیں۔نہ کہ اصلاح کی غرض سے۔اگر افسر کو الگ کر دیا جائے۔تو کام کس طرح چل سکتا ہے۔ایک گھر کا ایک کماؤ ہوتا ہے اور اس سے نیچے اس کے بال بچے ان میں سے کو نسا مر جائے تو پیچھے گھر میں امن قائم رہ سکتا اور ابتری نہیں پھیل سکتی۔باپ یا دس بارہ بچے جنہیں وہ پال رہا ہوتا ہے۔یا ماں جو اس کی نگرانی کرتی ہے وہ مرجائے تو فتنہ نہیں پڑتا۔اگر آٹھ یا دس بچے بھی مر جائیں۔لیکن ایک کام کرنے والا باپ زندہ رہے۔یا ایک نگرانی کرنے والی ماں موجود رہے۔تو وہ ابتری نہیں پڑے گی جو ایک باپ یا ماں کے مرنے اور