خطبات محمود (جلد 7) — Page 8
3 دعوت الی اللہ کا دائرہ وسیع کرد فرموده ۲۸ / جنوری ۱۹۲۱ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ : چونکہ آج مجھے اطلاع نہیں دی گئی اس لئے دیر ہو گئی۔میں ایک ضروری بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ سنت ہے امام کو مؤذن اطلاع دیتا ہے اس مگر ہمارے ہاں اس سنت پر کم عمل ہوتا ہے۔بعض وقتوں میں ہوتا بھی ہے۔اس کا خیال رکھنا چاہئیے۔سورہ فاتحہ ہمیں ایک خاص فرض کی طرف توجہ دلاتی ہے۔مگر اس کی طرف بہت لوگ توجہ نہیں کرتے۔میں نے بہت نصیحت کی ہے اور بار بار توجہ دلائی ہے۔کہ کام کرنے سے ہی ہوتے ہیں۔بیٹھنے سے کوئی کام نہیں ہو جاتا۔اور بڑے کام بہت سے لوگوں کے کرنے سے ہی ہوتے ہیں۔ہیں آدمیوں کا کام دس نہیں کر سکتے۔نبی بھی بشریت کے لحاظ سے ایک سے زیادہ کام نہیں کر سکتا نبی ایک وقت میں ایک ہی طرف دیکھ سکتا ہے۔دوسری طرف نہیں دیکھ سکتا۔ایک وقت میں ایک ہی سے باتیں کر سکتا ہے دو سے نہیں کر سکتا۔پس نبی بھی بشریت سے آزاد نہیں ہوتے۔تبلیغ کا سلسلہ ایک دو چار علماء سے تعلق نہیں رکھتا۔بلکہ اس کا تعلق ہر ایک شخص سے ہے۔اور ہر ایک شخص تک تبلیغ تبھی پہنچ سکتی ہے۔جب ہر شخص پہنچائے ایک عالم سب تک کیسے پہنچ ر ایک وقت میں بہت سے لوگوں کو سنایا جا سکتا ہے۔اور ایک کتاب لاکھوں تک میں ہے۔چرا اثر کر سکتی ہے۔مگر سوال تو یہی ہے کہ سب کو لیکچر کیونکر سنائے جائیں۔اور کتاب کیونکر پہنچائی سکتا جائے۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنی آواز چھ سات ہزار کے مجمع کو سنا سکتا ہوں۔جتنے اس وقت مسجد میں ہیں۔ان سے پانچ چھ سات گنے بھی اگر ہوں۔تو ان تک میری آواز پہنچ سکتی ہے۔لیکن اس وقت تو اتنوں کو نہیں پہنچ رہی کیونکہ اس وقت اتنے آدمی نہیں ہیں۔اور باقی خلا ہے۔اسی طرح سوال ہوتا ہے۔کہ کتاب پہنچے کیونکر؟