خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 9

اس وقت قرآن کریم اور حضرت اقدس کی کتابیں ہمارے پاس ہیں۔اور اس وقت اردو بولنے اور سمجھنے والے پندرہ میں کروڑ لوگ ہندوستان میں ہیں۔جو ان کتابوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مگر کس طرح؟ اسی طرح کہ ان کو ان تک پہنچایا جائے۔ورنہ کتابیں خود تو اڑ کر کسی کے پاس جاتی نہیں۔یا مثلاً حضرت اقدس کی عربی کی کتابیں ہیں اور عربی زبان اس وقت عرب میں۔عراق میں۔شام میں۔مصر میں ، الجزائر میں۔مراکش میں۔ٹیونس میں بولی جاتی ہے۔اور اور بھی علاقے ہیں جن میں عربی رائج ہے۔ان کو کتابیں کس طرح فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔کتاب خود نہیں کہہ سکتی کہ مجھے پڑھو۔نہ واعظ ہر شخص کو کہہ سکتے ہیں کہ آؤ اور ہمارا وعظ سنو۔Su سنانے کا طریق یہی ہے کہ ہر ایک شخص کو مخاطب کیا جائے۔اور اس کو سنایا جائے۔واعظ چونکہ محدود ہوتے ہیں۔وہ ہر شخص کے پاس نہیں ہونچ سکتے۔واعظ کسی وقت جاکر ایک جگہ لیکچر دے سکتے ہیں۔مگر کوئی سن لے گا اور بہت سے نہیں سنیں گے۔پس ہر شخص کو تبلیغ کرنے کا کام نہ واعظوں سے ہو سکتا ہے نہ کتابوں ہے۔بلکہ ہر فرد کو تبلیغ صرف اور صرف افراد ہی کر سکتے ہیں۔ورنہ کتابوں اور واعظوں کا وجود معطل ہے۔تحریک پیدا کرنا ہر شخص کا فرض ہے۔جب تک سب کے سب افراد اس کام میں زور سے حصہ نہیں لیں گے۔ہمارا کام محدود رہے گا۔اب سال میں نئے مبائعین کی اوسط قریباً تین ہزار ہوتی ہے۔اخبار میں تھوڑے ہی نام شائع ہوتے ہیں۔کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے۔کہ گھر کا کوئی بڑا بیعت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میری بیعت میں گھر کے سب لوگوں کی بیعت شامل ہے۔تو بیعت کرنے والوں کی اوسط فی سال تین ہزار ہے۔جس کے یہ معنی ہیں۔ایک ہزار سال میں تیس لاکھ آدمی احمدی ہوئے۔اور اگر دنیا کی عمر ایک لاکھ سال ہو۔تو سارے ہندوستان کی موجودہ آبادی احمدی ہوگی۔اور باقی سب دنیا محروم رہے گی۔مگر جیسا کہ خیال ہے۔کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔اور ہم اس حساب سے آخر میں پیدا ہوئے ہیں۔تو ایسی حالت میں اگر قریباً ۱۵ عمریں دنیا کی اور ہوں۔تب ہم صرف ہندوستان کو احمدی بنا سکتے ہیں۔اور ساری دنیا کو احمدی بنانے کے لئے کس قدر عرصہ چاہئیے۔وہ ظاہر ہے۔پس موجودہ رفتار کے لحاظ سے اتنے لیے عرصہ کی ضرورت ہے۔جو لاکھوں سال بنتا ہے۔اور وہ بھی اس صورت میں کہ ہم موجودہ رفتار ترقی سے بھی نہ گر جائیں۔اور اگر ہماری یہ رفتار نہ رہے۔اور دنیا کی نسل بڑھتی جائے۔تو اس سے بھی بہت زیادہ عرصہ دنیا کو مسلمان بنانے کے لئے درکار ہوگا۔اور اگر دنیا کی عمر باقی صرف پانچ سو سال ہو۔جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے۔تو پھر تمام دنیا کو اسلام کے حلقہ میں لانا موجودہ رفتار کے ساتھ خیال محال ہے۔جو مجنونانہ خیال سے بھی بڑھا ہوا ہے۔یہ نقص کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ تمام افراد کے اندر تبلیغ کی تحریک نہیں۔ہمارے