خطبات محمود (جلد 7) — Page 7
عمل کی ضرورت سمجھی جاتی ہے نہ حرکت کی۔اس کے لئے ان میں کوئی جوش نہیں ہوتا۔بلکہ ان کے دل برف کے ڈلے ثابت ہوتے ہیں۔اور ان کی آنکھ نہیں دیکھتی۔گویا کہ وہ جمادات کی طرح ہو جاتی ہے۔مگر مومن کی یہ حالت نہیں ہوتی۔وہ ہر ایک بات میں امتیاز کرتا ہے۔اور خیال کرتا ہے کہ کہاں مجھ کو لڑنا چاہیئے۔اور وہاں لڑتا ہے۔مومن ظالم نہیں ہوتا۔مومن کے معنی ہی ہوتے ہیں امن میں آیا ہو۔اور امن میں پہنچانے والا۔پس امن میں آنے والے غور کریں کہ کیا ان میں حق کی تبلیغ کے لئے وہ جوش و خروش ہے جس کی ضرورت ہے۔اور ان کے دل میں ایسی تڑپ ہے کہ اس راہ میں جان و مال کو قربان کر دیں۔کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ خدا کے لئے ہم ہوں اور ہماری ہر ایک کوشش خدا کے لئے ہو۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔(الفضل ۲۷ / جنوری ۱۹۲۱ء)