خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 422

۴۲۲ سمجھو کہ گاؤں کے سارے کے سارے لوگ احمدی ہوگئے ہیں۔اس لیے کوئی خطرہ نہیں رہا۔بلکہ شیطان ہر وقت تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے اس سے چوکس رہو۔ہماری جماعت کو خاص طور پر یہ بات مد نظر رکھنی چاہیئے اور ہر ایک احمدی سوچتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے۔مجبوری سے تو نہیں کرتا۔اگر مجبوری سے کرتا ہے تو اس کا اخلاص اس کی نیکی اس کا تقویٰ سب بناوٹی ہے اور جب تک یہ ثابت ہو کہ تقوی او نیکی جوش اور قربانی خدا کے لیے ہے اس وقت یک وہ کسی انعام کا مستحق نہیں ہو سکتا۔اور نہ اپنے نفس سے معلمین ہو سکتا ہے پس میں اپنی ساری جماعت کو عموماً اور علاقہ سیالکوٹ کی جماعت کو خصوصاً جسے اپنی زیادتی کی وجہ سے اپنے اخلاص اور جوش کو اصلی سے اور کو ثابت کرنے کا موقع مل گیا ہے تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس بات کا خاص خیال رکھے۔مجھے معلوم ہوا کہ بعض جگہ جہاں جماعت کی زیادتی ہے بعض نقص پیدا ہو گئے ہیں۔ذرا ذراسی بات پر آپس میں جھگڑا شروع کر دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اتفاق اور اتحاد حقیقی ایمان کے نتیجہ میں نہ تھا۔جب تک دشمن ان کے سامنے تھا اکٹھے تھے۔جب وہ ہٹ گیا تو پھر جس طرح خیر احمدی ہونے کی حالت میں لڑتے تھے۔اسی طرح لڑنے لگ گئے۔میں پوچھتا ہوں کیا فائدہ ہے اس ایمان کا جس نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔اور میں نے کچھ دیا نہیں اگر وہی حالت رہی جو احمدی کہلانے سے پہلے تھی توایمان لانا نہ لاتا مساوی ہے۔اگر وہ ایمان ایسا ہے کہ اس کے ذریعہ دل سے وحشت نہ گئی۔درندگی دور نہ ہوئی۔تو اس کی قیمت ایک پیسہ بھی نہیں ایسا ایمان منافقت ہے۔اور اس سے وہ بے ایمانی اچھی ہے جس میں محبت اور پیارا الفت اور نرمی پیدا ہو۔پس جب تک تم تغیر کر کے نہ دکھا وا اور خواہ سارا ملک احمدی ہو جائے۔تمہارا قدم نیکی سے پیچھے نہ ہٹے بلکہ آگے ہی آگے بڑھتا جائے اس وقت تک تمہارا ایمان حقیقی نہیں ہو سکتا اگر تم اسوقت اخلاص دکھاتے ہو جبکہ تمہاسے ثمین زیادہ ہوں تو اسوقت جبکہ دشمن کم ہو جائیں اور زیادہ اخلاص دکھانا چاہیئے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی الہ علیہ السلام کے پاس صحابہ گئے اور جاکر کہا۔آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں کہ کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں سوج جاتے ہیں۔آپ کو خدا نے اتنا بڑا درجہ دیا ہے۔کیا آپ کو بھی اس قدر عبادت کرنے کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا۔کیا تم یہ کہتے ہو کہ مں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔دیکھو تم تو اس لیے عبادت کرتے ہو کہ عذاب سے بچائے جاؤ۔اور مجھے چونکہ خدا نے بچا لیا ہے اس لیے میں اس کے شکریہ میں تم سے بڑھ کر عبادت کرتا ہوں۔تو حقیقی ایمان اور نیچے بخاری کتاب التجد باب قیام انبي صلى اله علیه وسلم حتی ترم قدماه