خطبات محمود (جلد 6) — Page 423
تسييح اخلاص کا پتہ اسی وقت لگتا ہے جبکہ انسان امن وامان میں ہوتا ہے پہلے جب دشمن سامنے کھڑا ہو اس وقت اگر کوئی ایمان اور اخلاص دکھاتا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ اپنی غرض سے کرتا ہے کہ دشمنوں کے شرسے بچایا جاوے، لیکن جب بچالیا جاوے اور اس وقت بھی اخلاص دکھاتے تب حقیقی مخلص ہو سکتا ہے ورنہ اس سے زیادہ بے حیائی اور کیا ہوگی کہ جب تک فائدہ کی امید ہو اس وقت تک تعلق رکھا جائے اور جب فائدہ اُٹھا لیا جائے تو پھر تعلی چھوڑ دے پس اگر تم لوگ دشمنوں کی طرف سے امن میں آگئے ہو تو خدا کا شکر کرو کہ دوسرے بھائیوں سے پہلے تمہیں امن حاصل ہو گیا ہے وہ اب بھی دُکھ دیتے جارہے ہیں۔خرید و فروخت سے روکے جار ہے ہیں۔اور طرح طرح سے سناتے جارہے ہیں۔مگر تم کو خدا نے ان سے پہلے امن دیدیا ہے۔کیا اس کی یہی قدر ہے ؟ کہ خدا کے حکموں کو تم پیچھے ڈال دور نہیں بلکہ یہ کہ تم اپنے اعمال سے ثابت کر دو کہ تمہارا خدا تعالے سے حقیقی تعلق ہے اور کم عمر کیسر میں ایک ہی جیسے رہتے ہو۔پس تم خدا کے اس فضل کی قدر کرو اور آپس میں لڑائی جھگڑے کرنے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ اتفاق و اتحاد سے رہو۔اپنے حوصلے وسیع کردو، کیونکہ مومن کا حوصلہ بہت وسیع ہوتا ہے۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہماری لڑائی تو دین کے لیے ہے۔مگر دین کے لیے تو لڑائی ہوتی ہی نہیں۔اگر کوئی خود بخود نہیں چھوڑ کر چلا جائے اور بُرا بھلا کے تو وہ لڑتا ہے ہم نہیں لڑتے کیونکہ اسلام کسی سے لڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔یہ کہا کہ فلاں آدمی کو ہم نے اس لیے چھوڑ دیا ہے کہ اس نے یہ بداخلاقی دکھلاتی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ اخلاق دکھاتا تو پھر اس کو ساتھ رکھنے میں بات ہی کو نسی تھی اور اس پر احسان کرنے کا موقع ہی کیا تھا۔احسان کرنے کا موقع تو یہی ہوتا ہے کہ انسان خلاف منشاء خود کوئی بات دیکھے اور پھر بھی سلوک کرے اگر کوئی کسی کے پاس آئے اور وہ اسے قالین بچھا دے تو کیا وہ ایسا کر گیا کہ قالین پر بیٹھ کر میزبان کو پتھر مار دے۔ہرگز نہیں کیونکہ اخلاق کے مقابلہ میں اخلاق دکھا نا کوئی بڑی بات نہیں۔اصل میں بداخلاقی کے مقابلہ میں اخلاق دکھانا سختی کے مقابلہ میں نرمی کرنا اور جاتے ہوئے کو پکڑ کر اپنے پاس بٹھلانا یہ اخلاق ہے۔بعض نادان کہا کرتے ہیں مرزا صاحب نے آکر کیا کیا ان کی جماعت میں بھی ایسے آدمی ہیں۔جو لڑتے جھگڑتے ہیں۔میں کہتا ہوں مرزا صاحب ریکروٹنگ آفیسر نہ تھے۔کہ جن لوگوں کا قد کان ناک وغیرہ اعضاء اور صحت اچھی تھی ان کو چن چن کر اپنی جماعت میں بھرتی کرتے تھے بلکہ وہ ایک روحانی طبیب تھے۔جو بیماروں کو پیر پکڑ کر اپنے پاس رکھتے تھے پس اگر ان کے ہسپتال میں بیمار ہیں تو یہ کوئی