خطبات محمود (جلد 6) — Page 27
6 کامل ایمان کس طرح حاصل ہوتا ہے؟ فرموده ۸ فروری شاه حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی :۔ولا يَا تِلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمُ والسَّعَةِ أَن يُوتُوا أُولِي الْقُربى والمَكِينَ وَالمُهَا جِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلْيَعْفُوا وَلَيَصْفَحُواء الاتُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللهُ لكُمُ وَ اللهُ غَفُورٌ رَّحِيمُه والنور : ٢٣) اور فرمایا : میں نے پچھلے جمعہ اس امر کے متعلق بیان کیا تھا کہ جب تک کسی کام کے لیے صحیح ذرائع کو استعمال نہ کیا جائے اور ان سامانوں سے کام نہ لیا جائے جو خدا تعالیٰ نے اس کام کے لیے حیا فرمائے ہوں۔اُس وقت تک کوئی شخص اس کام میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ کسی کا محض کوشش کرنا اور شوق رکھتا دلیل نہیں ہے کہ جس مقصد کے لیے وہ ایسا کرتا ہے۔اس میں کامیاب بھی ہو جائے گا کیونکہ اگر طریق عمل صحیح نہیں تو پھر کامیابی بھی نہیں میں طرح ایک لکڑی کاٹنے والا اور لوہار باوجود ایک طالبعلم سے زیادہ محنت کرنے کے علم حاصل نہیں کر سکتا۔اگرچہ تکلیف زیادہ اُٹھاتا ہے۔کیونکہ یہ طریق علم حاصل کرنے کا نہیں۔اسی طرح کوئی شخص ایک الیا طریق اختیار کر کے جس میں گو محنت اور مشقت زیادہ برداشت کرنی پڑے، لیکن وہ اس کام کے لیے مقرر نہ کسی کام میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔دیکھو لکڑ ہارے اور طالبعلم میں سے کہ ایک با وجود زیادہ کوشش اور محنت کرنے کے علم حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے اور دوسرا کم محنت کے ساتھ کامیاب ہو جاتا ہے یا مثلاً اگر کوئی کروڑ پتی اپنی ساری دولت لوگوں کو لٹا دے کہ اسے علم سائنس آجاتے، تو نہیں آئیگا، مگر ایک دوسرا شخص جو سکول کی بہت تھوڑی فیس دے اور باقاعدہ سائنس کی تعلیم حاصل کرے۔وہ سائنسدان ہو جائے گا۔کیونکہ یہ ان ذرائع سے کام لے گا، جو خدا نے سائنس کے حصول کے لیے بناتے ہیں۔میں اسی طرح تقوے اور عرفان کے حصول کے جو ذرائع ہیں۔جب تک ان سے کام نہ لیا جائے اور تفصیلی طور پران